اثاثے چھپانے یا ڈکلیئر نہ کرنے پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ غیرقانونی، اسلام آباد ہائیکورٹ

17 اپریل ، 2022

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے اثاثے چھپانے یا ڈکلیئر نہ کرنے پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنانا غیرقانونی قرار دیدیا ہے۔ منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنانے کیلئے جرم کے پیسے سے اثاثے بنانے کا ربط ثابت کرنا ضروری ہے، ایف بی آر اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے یا چھپانے پر بنایا جانے والا منی لانڈرنگ کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، 2010کا ایکٹ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کی روک تھام کے لیے جاری کیا گیا تھا،ایکٹ کے سیکشن فور کے تحت منی لانڈرنگ قابل سزا جرم ہے، سنیچر کو چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے بزنس مین الطاف احمد گوندل کی پٹیشن پرتفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنانے کے لیے جرم کے پیسے سے اثاثے بنانے کا ربط ثابت کرنا ضروری ہے۔ایف بی آر اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے یا چھپانے پر بنایا جانے والا منی لانڈرنگ کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔‘فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ 2010کا ایکٹ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کی روک تھام کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ 2010 ایکٹ کے سیکشن فور کے تحت منی لانڈرنگ قابل سزا جرم ہے۔’سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنانے کے لیے چھپائے گئے اثاثوں کا جرم کے پیسے تعلق ثابت کرنا ضروری ہے۔ منی لانڈرنگ کے الزام پرکریمنل کیس بنانے کی کارروائی اختیارات سے تجاوزہے۔‘عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ صرف اثاثے چھپانے کا کیس تھا، منی لانڈرنگ کا جرم نہیں بنتا۔عدالت نے اثاثے منجمد کرنے اور منی لانڈرنگ کی ایف آئی آر غیر قانونی قرار دے کر خارج کر دی۔29 جون 2021 کو درج کرائی جانے والی ایف آئی آر میں اثاثے ڈکلیئر نہ کرنے یا چھپانے کا الزام لگایا تھا۔