سرکاری زمین پر دعویٰ صرف میوٹیشن سے ثابت نہیں ہوتا بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ پیش کرنا لازم ، سپریم کورٹ

16 فروری ، 2026

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری اراضی پر ملکیت کا دعوی صرف میوٹیشن کے اندراج یا جرح کے دوران کسی دستاویز کے ذکر سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دعویٰ کرنیوالے پر لازم ہے کہ وہ بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی زمین کو ناقص شہادت یا ماتحت اہلکاروں کی کوتاہی کی بنیاد پر نجی ملکیت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔تفصیلی تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس میاں گل اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 1600-ایل/2014 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔مقدمہ ضلع بھکر کی 66 کنال 9 مرلہ اراضی سے متعلق تھا جو چک نمبر 61 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر میں واقع ہے۔ درخواست گزاروں (حکومت پنجاب بذریعہ ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو/کلکٹر بھکر و دیگر) کا موقف تھا کہ مذکورہ زمین تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) کی ملکیت تھی اور سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسکی الاٹمنٹ قانونی طور پر ممکن نہیں تھی۔ موقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ ریونیو حکام، بشمول ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) سرگودھا اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر لاہور کے احکامات کے تحت زمین حکومت کے نام بحال کی جا چکی تھی۔