بین الااقوامی بندرگاہوں کی آپریٹر کمپنی کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم مستعفی

16 فروری ، 2026

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر )کارپوریٹ سیکٹر کیلئے اہم خبر ہے کہ بین الااقوامی بندرگاہوں کی آپریٹر کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں۔انہوں نے یہ استعفیٰ Epstein کی فائلوں کے لیک ہونے کے بعد دیا جن میں جیفری ایپسٹائن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کا انکشاف ہوا تھا۔ عالمی شہرت یافتہ کمپنی ڈی پی ورلڈ کا عیسیٰ کاظم کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین اور یووراج نارائن کو گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان۔ محکمہ انصاف کی فائلوں اور حالیہ دیگر عوامی انکشافات سے پتہ چلا کہ دونوں افراد نے برسوں دوستانہ ای میلز کا تبادلہ کیاجن میں خواتین کے بارے میں غیر مہذب زبان کا استعمال بھی شامل تھا۔ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ سلطان احمد بن سلیم نے ایپسٹائن کے جزیرے کا دورہ کیا تھا۔یہ معاملہ رواں ہفتے اس وقت سامنے آیا جب کانگریس میں انکشاف ہوا کہ دبئی کے اس تاجر کا نام "سلطان" تھا جسے 2019 میں ایپسٹائن کی ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں اس نے لکھا تھا: "مجھے تشدد والی ویڈیو بہت پسند آئی۔"جمعہ کے روز بن سلیم نے ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جو دبئی حکومت کی ملکیت ہے۔ ایپسٹائن سے وابستگی کے باعث اس سال مستعفی ہونے والی کاروباری شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جمعہ کو گولڈمین سیکس کی چیف لیگل آفیسر کیتھرین ریملر نے بھی جون میں استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ لاء فرم پال ویس کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دونوں نے کہا کہ انہیں ایپسٹائن کے جرائم کے بارے میں علم نہیں تھا اور وہ اس سے وابستگی پر افسوس کرتے ہیں۔جاری کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سلطان احمد بن سلیم نے 2008 میں ایپسٹائن کی نابالغ سے جسم فروشی کیلئے راغب کرنے کے جرم میں سزا سے پہلے بھی اس سے رابطہ کیا تھا اور 2019 تک اس سے رابطے میں رہے، یعنی اسی سال جب ایپسٹائن کو وفاقی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ایپسٹائن کی ای میلز کے مطابق، 2007 کے ایک تبادلے میں، ایپسٹائن اورسلطان احمد بن سلیم نے ایک ایسی عورت کے بارے میں بات کی تھی جو بظاہر دونوں کو جانتے تھے۔ یہ ای میلز ڈسٹری بیوٹڈ ڈینیئل آف سیکرٹس نے جاری کی تھیں، جو لیک شدہ دستاویزات شائع کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔سلطان ا حمدبن سلیم نے لکھا کہ ان کی ملاقات اس سے نیویارک میں ہوئی اور "غلط فہمی ہوئی کہ وہ کوئی کاروبار چاہتی تھی جبکہ میں صرف ʼعورتاʼ چاہتا تھا۔!"ایپسٹائن نے جواب دیا، "اللہ کا شکر ہے کہ اب بھی تم جیسے لوگ موجود ہیں۔"2016 میں، ایپسٹائن نے کیریبین میں گریٹ سینٹ جیمز نامی دوسرا نجی جزیرہ دبئی کے اس تاجر کے ذریعے خریدا تاکہ اپنی شناخت چھپا سکے، کیونکہ جزیرے کا مالک ایپسٹائن کو فروخت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 2019 میںایک ترجمان نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ سلطا ن ا حمد بن سلیم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ لین دین کیلئے ان کا نام استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ سلطان احمدبن سلیم کو اس مجرم سے جوڑنے پر میڈیا اداروں کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔2023 میں جب جے پی مورگن چیس کیخلاف مقدمے میں دستاویزات نے بن سلیم اور ایپسٹائن کے درمیان مزید روابط کا انکشاف کیا تو ترجمان نے وال سٹریٹ جرنل کی مزید پوچھ گچھ کا جواب نہیں دیا۔اس ہفتے محکمہ انصاف نےسلطان احمد بن سلیم کی شناخت "سلطان" کے طور پر کی جو 2019 میں ایپسٹائن کی وہ ای میل موصول ہوئی تھی جس میں ایپسٹائن نے لکھا تھا کہ "مجھے تشدد والی ویڈیو بہت پسند آئی۔" کانگریس کے اراکین نے اس دستاویز کو نمایاں کیا، کیونکہ وصول کنندہ کا نام حذف کر دیا گیا تھا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے ایکس پر کہا کہ اسے حذف کیا گیا کیونکہ یہ ایک ای میل ایڈریس ہے، اور "آپ جانتے ہیں کہ سلطان کا نام فائلوں میں بغیر حذف شدہ دستیاب ہے،" ایک فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس میںسلطان بن سلیم کا ذکر تھا۔