نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے عدالت جانے والے افسران کو ریلیف نہ مل سکا

16 فروری ، 2026

کراچی (اسد ابن حسن) نیشنل سائبر کرائم انڈسٹگیشن ایجنسی کے 77 اہلکار جن کے اٹھ برس بعد کانٹریکٹ کی تجدید نہ کی گئی اور نوکری سے فارغ ہو گئے ان میں سے 40 اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ائینی درخواست دائر کی۔ 28 صفحات کی درخواست کے ساتھ 15 این اینکژرز بھی منسلک کیے گئے۔ دوران سماعت جب عدالت نے مدعیوں یہ وکیل سے یہ پوچھا کہ نوکری سے برخاصی کے لیٹر کہاں ہیں۔ کیونکہ ایجنسی انہیں کانٹریکٹ کی تجزیح نہیں کی تھی اور اس کے لیے نوکری سے برخا سیکھ کے لیٹر جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا لہذا وکیل وہ لیٹر پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے اسٹے ارڈر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اگلی پیشی پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی اعلی انتظامیہ کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ ماہ بھی فیز ٹو کے اہلکاروں نے اور اس کے بعد فیچ تھری کے نوکری سے فارغ افسران کا اپنی نوکری پر ریگولرائزڈ ہونے کی درخواست پر بھی سماعتیں ہوئی تھی جس میں ایجنسی کے ڈائریکٹر ایڈمن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ افسران کی ریگولرائزیشن کا کیس وفاقی کابینہ کو بھیجا ہوا ہے اور کابینہ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا جس پر عدالت نےحکم جاری کیا کہ ایک ماہ کے اندر رولز اور ریگولیشن تیار کیے جائیں اور اگلی سماعت 21 فروری کو مقرر کی ہے۔