کسی صورت جیل کے اندر طبی معائنہ ممکن نہیں، تحریک انصاف

16 فروری ، 2026

اسلام آباد (خبر نگار)تحریک انصاف نے فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر عمران خان کا طبی معائنہ مسترد اور حکومتی مؤقف بدنیتی پر مبنی قرار دیتےہوئے کہاہےکہ سابق وزیراعظم کی آنکھ کا مسئلہ جو انتہائی پیچیدہ اور سنگین ہے‘ اس کا کسی صورت جیل کے اندر طبی معائنہ ممکن ہی نہیں ہے‘پی ٹی آئی نے مطالبہ کیاذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے‘بانی کی فیملی سے فوری ملاقات کرائی جائے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ پارٹی قیادت کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ معائنے کے وقت جیل آ جائے دراصل بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ یہ معاملہ کبھی بھی پارٹی قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں تھا۔ ایسے حساس اور نازک طبی معاملات میں فیصلہ کرنے کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق عمران خان کی فیملی کا بنتا ہے، اور فیملی اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی جب تک عمران خان کے ذاتی معالجین معائنے کے دوران موجود نہ ہوں۔ اس لئے پارٹی قیادت کو علامتی طور پر مدعو کرنے کی نہ کوئی اخلاقی منطق ہے اور نہ ہی کوئی قانونی جواز ہے۔تحریک انصاف اور عمران خان کی فیملی کا مطالبہ شروع دن سے بالکل واضح رہا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے اور فیملی سے بلا تاخیر ملاقات کرائی جائے اور یہی مطالبہ آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ برقرار ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور جیل حکام نے فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کو اعتماد میں لئے بغیر، ان کی غیر موجودگی میں طبی معائنہ شروع کر دیا، جو نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ حکومت کی نیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی چالاکی، بیانات اور نمائشی اقدامات کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔