اسرائیل کی مغربی کنارے کی اراضی کو ریاستی ملکیت رجسٹر کرنے اور نئے ہوائی اڈوں کی منظوری

16 فروری ، 2026

کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیل کی مغربی کنارے کی اراضی کو ریاستی ملکیت رجسٹر کرنے اور نئے ہوائی اڈوں کی منظوری، اقدام 1967 میں کیونکہ یہ ایک مشین ہے اور اسکے پیچھے یورپی دماغ ہیں،AI دو لاکھ مخلوقات میں سے صرف ایک مخلوق کا احاطہ کرتی ہے،دنیا کو جب یہ پتہ چلے گا یہ جھوٹ بھی بولتی ہے تو تب انکی آنکھیں کھلیں گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گل پیڑہ گوجرخان میں میں منعقدہ سالانہ تعلیمی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسکا موضوع’’سفر ابن ادم‘‘ تھا،سیشن میں ملک و بیرون ممالک سے دس ہزار سے زائد علم کے متلاشیوں نے شرکت کی،جن میں اعلی سول و ملٹری،حاضر سروس اور بیورو کریٹس بھی شامل تھے،سیشن صبح شروع ہو کر مغرب تک جاری رہا،ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی و ٹریفک کنٹرول کیلئے راولپنڈی سے اضافی نفری بھیجی گئی تھی، پاکستان سویٹ ہومز کالج کے کیڈٹس نے پنڈال کے اندر تمام انتظامات سنبھال رکھے تھے، پروفیسر احمد رفیق اختر نے اسٹیج پر بیٹھے سویٹ ہومز کے چیئرمین خان زمرد اور کیڈٹس کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اقبال کے شاہین قرار دیا اور کہا کہ ان نوجوانوں کو نہ صرف دین سے آگہی حاصل ہوئی بلکہ ان کیڈٹس نے ہمارے لیے آسانیاں پیدا کیں، پروفسر احمد رفیق اختر نے کہا کہ ابن آدم کے دیگر بھی دعویدار ہیں اور اپنے حق میں کمزور تاویلیں لاتے ہیں مگر ابن ادم ایک صرف ایک ہی ہیں اور وہ ہیں نبی آخرت الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ،جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مہر ثبت کی،بگ بین نظرئیے کی عمر 8-9 بلین سال ہے مگر اللہ تعالیٰ کتنے ٹریلین سالوں سے ہے اسکا کسی کو علم نہیں،زمین پر 8 اولعزم پیغمبر گزرے ہیں،جن میں حضرت ادریس اور حضرت عیسی شامل ہیں،انکی بزرگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ شیطان انکی شکل میں خواب میں بھی نہیں ا سکتا ،جبکہ حضرت محمد ﷺ کی شکل میں بھی نہیں آ سکتا،جب حضرت محمدﷺ عرش پر تشریف لے کر گئے تو نے ان آٹھ پیغمبروں کو ہی دیکھا جن کی عزت و شان سب سے بلند ہے،اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی،اللہ تعالی نے حضرت دانیال کو بھی بڑا رتبہ دیا تھا، انہوں نے اصفہان میں یہودیوں کو اس بادشاہ کے غیض و غضب سے بچایا جسے انہوں نے خواب کی صیح تعبیر بتائی تھی اور وہ آپکی عظمت کا قائل ہو گیا تھا،عیسائی بھی حضرت عیسی کو ابن ادم کہتے ہیںاور قوم میں یہود بھی کئی مثالیں دے کر یہی کہتی ہے مگر ابن ادم کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا وہ سب حضرت محمد ﷺ سے مشابہہ ہے،جیسے یہ کہ ابن آدم وہ ہے جسکے دائیں ہاتھ میں آتشیں تلوار اور بائیں ہاتھ میں کتاب ہو گی ،جب فتح مکہ ہوئی تو حضور ﷺ کے دائیں ہاتھ میں وہی تلوار اور بائیں ہاتھ میں قران پاک تھا،جب ابن ادم تشریف لائے تو بڑی بڑی سلطنتیں ان کے پاؤں میں گر گئیں،بڑی فتوحات ہوئیں،کہاں 313 اور 913 اور کہاں ہزاروں یہ لشکر،حضور ﷺ کی تشریف آوری سے قبل ان کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی گئی تھیں سب سچ ثابت ہوئیں،جب خانہ کعبہ پر ابابیلیں اتاری گئیں تو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے،تو کیا خدا ایسا نہیں کر سکتا ؟اسی طرح کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ خواب میں معراجِ پر تشریف لے کر گئے،جبکہ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میں عطیم میں سویا ہوا تھا کہ مجھے کچھ احساس ہوا اور میری انکھ کھل گئی،میں پھر سو گیا اور مجھے جگایا گیا اور مجھے کہا گیا کہ میں تمہیں لینے آیا ہوں،ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو چار بار دیکھا،پروفیسر احمد رفیق اختر نے کہا کہ قوم عقلی اور کم شعوری کے باعث بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں،ہمارے علمائے کرام کو اس کا ادراک نہیں کہ AI ہمارے لیے کون سی مصیبتیں لا رہی ہے،یہ دجال کی سنٹر فارورڈ ہے،پرانے اور قدیم علوم میں کچھ ساتھیوں ہو سکتی ہیں مگر انہیں رد نہیں کیا جا سکتا،جب حضرت عیسیٰ اس دنیا سے جانے لگے تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میرا جانا تمہارے لیے مفید ہے ،اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہیں آئیں گے ،میں جاؤں گا تو حضرت محمد ﷺ تمہارے پاس آئیں گے جسکا تمہیں فائدہ ہے،ہندووں کے ایک عالم نے بھی ایک کتاب میں پیشگوئی کی،کہ ایک پیغمبر آئیں گے جنکا نام محمد ﷺ ہو گا،انہوں نے کہا کہ ہم اس کائنات کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں،جبکہ یہ زمین اس کائنات کا ایک دروازہ ہے،اور چھوٹی سی چیز ہے،انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ معتدل لوگوں، احسان کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو بے حد پسند کرتا ہے،بعض کم عقل لوگ ایک غیر ضروری اعتراض کرتے ہیں کہ تم لوگ قرآن کے مقابلے میں آحادیث کو لے آئے ہو ،یہ جہالت کی نشانی ہے ،یہ خود مذہب کی مخالفت کرتے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ ہم مسلمانوں میں ہر گلی محلے اور خاندانوں میں حافظ قران موجود ہیں،کیا کسی نے یہ بھی سنا کہ حدیث کا بھی کوئی حافظ ہے،پروفیسر احمد رفیق اختر نے AI کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکے فوائد بھی ہیں مگر نقصانات اس سے زیادہ ہیں،2030 تک اس نے کینسر کے علاج کے طریقے نکال لیے ہیں،اب ادویات کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو درد سے نجات ملے گی،کسی کو ٹانگوں کا درد نہیں ہوگا،دانت جائیں گے نہ درد ہوگا،برطانیہ کے سائنس دانوں نے بڑھاپے کا علاج ڈھونڈ لیا ،انہوں نے ڈی این اے کے ذریعے پتہ چلا یاہے کہ کچھ سیل سو جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑھاپا آتا ہے ان سیلز کو جگانے کے لیے کامیاب تجربات کر لیے گئے ہیں،کانوں میں انجکشن سے سماعت مکمل طور پر بحال ہو جائے گی،نروز کی ٹریٹمنٹ بھی دریافت کر لی گئی ہے،پاکستان کے سائنسدانوں نے سیکنڈ شوگر کا علاج دریافت کر لیا ،سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسان ڈھائی سو سال تک جی سکے گا،مگر اتنا عرصہ جی کر وہ کرے گا کیا؟انہوں نے کہا کہ میں نے AI سے خدا اور فرشتوں کے بارے میں کئی سوالات کیے مگر وہ صحیح جواب نہ دے سکی،ایک اور بات یہ ہے کہ کیا اے آئی نے اخلاقیات کا سبق پڑھا ہے،جو اس مشین کے پیچھے ہیں ان کی اخلاقیات سے سب واقف ہیں،آنے والے وقتوں میں اس نے دجال کا کردار ادا کرنا ہے،یہ مردوں کو زندہ کرے گی،یہ مردہ انسانوں کی کاپی کرے گی،جسم تو ویسا بنا چکی ،اس میں صرف یادداشت ڈالنی ہے،علامہ اقبال زمان و مکان کے بارے میں بہت علم رکھتے تھے،انہوں نے مشینوں کی حکومت کو دل کے لیے موت قرار دیا تھا،اے آئی دو لاکھ مخلوقات میں سے صرف ایک مخلوق کا علم رکھتی ہے،ابھی اس کے جھوٹ سامنے نہیں آئے،مگر سامنے آئیں گے ضرور، پروفیسر احمد رفیق اختر نے امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ معلوم نہیں اس نے ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کوئی چکر چلایا ہوا ہے یا ہمارے حکمرانوں نے اس کے ساتھ، ٹرمپ کہتا ہے کہ میں جو کام کر رہا ہوں یہ خدا نے مجھے سونپے ہیں،مجھے چن لیا گیا ہے ،میں تجارت میں چین کو مار دوں گا،دنیا کا کوئی قانون مجھے نہیں روک سکتا،جبکہ یہودی اسے اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخ میں ایسا شخص نہیں آیا ،ٹرمپ خدا کے بعد ہمارے لیے سب کچھ ہے،ایک سال اور اڑھائی ماہ بعد دنیا میں بڑی تبدیلی آئے گی،مسلمان عیسی ابن مریم کا ساتھ دیں گے ،بڑی قتل و غارت ہو گی،ابن ادم نے فرمایا کہ بڑا قحط پڑے گا ،ایک سال کا غلہ محفوظ کر لینا،پھر آخری فتح مسلمانوں کی ہو گی،بڑے خوبصورت حکمران آئیں گے اور پھر مہدی اور عیسی نارمل موت پائیں گے۔پروفیسر احمد رفیق اختر نے لوگوں کو وارننگ دی کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل نہ دیں،کیونکہ یہ بچوں میں بہت سی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے،ان کے دماغ شل ہو رہے ہیں،وہ سکرین سے باہر نکل ہی نہیں رہے،سیکھنے کے عمل اور عقل سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔