پاکستان اور سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق

17 فروری ، 2026

کولمبو ( آن لائن )وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےدورہ سری لنکا کے دوران وزیر داخلہ و پارلیمانی امور آنند وجے پالا،سیکرٹری دفاع ایئر وائس مارشل ( ر ) سمپاتھا تھویا کونتھا اوروزیر کھیل و امور نوجوانان سنیل کمارا گیمیج سے اہم ملاقاتیں کیں،ملاقاتوں میں دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال اور تعاون میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے سری لنکا کی وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں ان کا شاندار استقبال سری لنکا کے وزیر داخلہ و پارلیمانی امور آنند وجے پالا نے کیا۔ اس ملاقات میں دونوں وزیروں نے داخلی سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں باہمی معاونت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔محسن نقوی اور آنند وجے پالا نے سائبر کرائمز اور مالیاتی فراڈ میں ملوث مافیا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی، اور پاکستان و سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزراء نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کے لیے باہمی کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ بھی کیا۔محسن نقوی نے سری لنکن پولیس کے افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کی پیشکش کی، جس سے دونوں ممالک کی پولیس فورسز کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے مشترکہ ٹریننگ پروگرامز سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مستحکم ہوگا۔انہوں نے سری لنکن وزیر داخلہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔اس موقع پر پاکستان کے ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) فہیم العزیز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ سری لنکن وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ کی سری لنکا آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ علاوہ ازیں،وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سری لنکا کے سیکرٹری دفاع ایئر وائس مارشل ( ر ) سمپاتھا تھویا کونتھا سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک-سری لنکا سکیورٹی تعاون، دفاعی امور اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک-سری لنکا سکیورٹی تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے دونوں ممالک کا اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔