ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں کے بعد دنیا کے دو بڑے معاشی اتحاد قریب آ گئے

17 فروری ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں کے بعد دنیا کے دو بڑے معاشی اتحاد قریب آ گئے، یورپی یونین اور بارہ ملکی بحرالکاہل بلاک کے عالمی معاشی اتحاد کیلئے مذاکرات، ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل نئے عالمی تجارتی بلاک کا امکان،کینیڈا قیادت میں درمیانی طاقتیں تجارتی دباؤ کا ملکر مقابلہ کرنے کو تیار، دونوں بلاکس میں کم ٹیرف آزاد تجارت ممکن، یورپی یونین کے بعض حکام معاہدے کے حامی، چالیس ممالک کو مضبوط معاشی ڈھانچے میں جوڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات کی سخت پالیسی کے بعد دنیا کے دو بڑے معاشی اتحاد قریب آ گئے ہیں۔نیوز سائیٹ پولیٹیکو کے مطابق یورپی یونین اور ایشیا۔بحرالکاہل کے بارہ ملکی تجارتی معاہدے نے ایک وسیع عالمی معاشی اتحاد بنانے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں، جس سے تقریباً ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل نیا تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔مقصد یہ ہے کہ دونوں جانب سپلائی نظام کو جوڑا جائے اور ایسی شرائط طے کی جائیں جن کے تحت کم محصولات کے ساتھ اشیا اور صنعتی پرزہ جات کی آزادانہ ترسیل ممکن ہو سکے۔ اس پیش رفت میں نمایاں کردار کینیڈا ادا کر رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ ماہ درمیانی طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ تجارتی جنگ کے دباؤ کا مشترکہ مقابلہ کریں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی حکومت نے یورپی اتحادیوں کو محصولات بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔مذاکرات میں بنیادی توجہ قواعدِ ماخذ پر ہے،یہ قواعد طے کرتے ہیں کہ کسی مصنوعات کی معاشی شناخت کیا ہو گی اور وہ کس ملک کی پیداوار شمار کی جائے گی۔ اگر اس پر اتفاق ہو گیا تو دونوں اتحادوں کے ممالک کے درمیان اشیا اور پرزہ جات کم محصولات کے ساتھ آسانی سے منتقل ہو سکیں گے۔ بارہ ملکی ایشیا۔ بحرالکاہل اتحاد میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، چلی، جاپان، ملیشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، پیرو، سنگاپور، برطانیہ اور ویتنام شامل ہیں۔ یورپی یونین کے بعض حکام اس معاہدے کے حامی ہیں جبکہ کاروباری حلقے قواعدِ ماخذ کو سادہ اور ہم آہنگ بنانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو یہ دنیا کے تقریباً چالیس ممالک کو ایک مضبوط معاشی ڈھانچے میں جوڑ کر عالمی تجارتی توازن پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔