PTIناکام ہوچکی، محسن نقوی نے عمران کی رہائی کیلئے کوشش اور فیلڈ مارشل سے بات بھی کی، گنڈا پور

17 فروری ، 2026

کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نےکہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی واحد شخصیت فیلڈ مارشل کے سامنے بات کر لیتے ہیں، انہوں نے عمران خان کی رہائی کیلئے کوشش کی اور فیلڈ مارشل سے بات بھی کی، تحریک انصاف مجموعی طور پر ناکام اور داخلی کمزوریوں اور فیصلہ سازی کے فقدان کا شکار ہو چکی ،پارٹی میں بدیانت لوگ موجود ہیں، ذاتی مفادات کیلئے بانی پی ٹی آئی کی شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ایک انٹرویو میں عمران خان کی صحت، پارٹی کی داخلی صورتحال اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق اہم انکشافات اور اعترافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف داخلی کمزوریوں اور فیصلہ سازی کے فقدان کا شکار ہو چکی ہے جبکہ صحت سے متعلق رپورٹس پر مکمل یقین کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا وہ دعاگو ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ویسی ہی ہو جیسی رپورٹس میں بیان کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق اطلاعات پر مکمل یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں انہیں دھوکا دیا گیا، اور ان کے بقول ایک مرتبہ دھوکا ملنے کے بعد دوبارہ یقین کرنا مناسب نہیں ہوتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی اور پارٹی یا اہلِ خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ اس معاملے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے باعث شرم ہے کہ دباؤ اس حد تک کم ہو چکا ہے کہ انہیں ملاقات اور بانی کی صحت کے معاملے پر دھرنا دینا پڑ رہا ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہجماعت کے اندر بدنیت عناصر موجود ہیں اور تحریک انصاف میں فیصلہ سازی کی قوت ختم ہو چکی ہے۔ انکے مطابق پارٹی میں فیصلوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جاتی ہے۔بانی نے 26ویں ترمیم کو روکنے کیلئے اسلام آباد آنے کی ہدایت دی تھی اور حالات ایسے ہو گئے تھے کہ نظام مذاکرات پر آمادہ ہو گیا تھا۔ بانی سے ملاقات کرنے والے بعض افراد مبالغہ آمیز کہانیاں سناتے ہیں اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ قیادت غدار ہے اور کروڑوں افراد انقلاب کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں طاقتور اور کمزور کی کشمکش ہوتی ہے اور کمزور کو بالآخر بات ماننا پڑتی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے سنگجانی پر رکنے کی ہدایت دی تھی، تاہم 5 اکتوبر کو جب ڈی چوک پہنچے تو وہاں بہت کم افراد موجود تھے، جبکہ بانی کو ڈیڑھ لاکھ افراد کی موجودگی کی رپورٹ دی گئی۔ اسی طرح فیض آباد پل پر تین لاکھ افراد کی موجودگی کی اطلاع دی گئی۔ انکے مطابق بانی نے فائنل کال دی اور بھرپور کوشش کی گئی، جبکہ ریاست کے ساتھ تین دن کی کشیدگی کوئی معمولی بات نہیں تھی۔بانی پی ٹی آئی کو یہ تاثر بھی دیا گیا کہ ان کے بارے میں یہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ انہوں نے کوئی ڈیل کر لی ہے اور لوگ انقلاب کے لئے تیار ہیں۔