پنجاب میں پہلی صوبائی سول سروسز اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ

17 فروری ، 2026

لاہور (آصف محمود بٹ) حکومت پنجاب نے ایک اہم اور تاریخی انتظامی اصلاح کے تحت لاہور میں پہلی مرتبہ صوبائی سول سروسز اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبائی ادارہ جاتی صلاحیت کو مستحکم بنانا، صوبائی مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور گورننس کے نظام کو عصری چیلنجز کے مطابق ڈھالنا ہے۔یہ فیصلہ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی ہدایت پر کیا گیا جس کے بعد اکیڈمی کے قیام کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے،انتظامی ڈھانچے اور نصاب کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔اعلیٰ حکام کے مطابق صوبائی سول سروسز اکیڈمی کا قیام ایم پی ڈی ڈی کے مینڈیٹ کی جگہ نہیں لے گا بلکہ اس کی تکمیل کرے گا۔۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی مجوزہ ادارے کے انتظامی ڈھانچے، تعلیمی و تربیتی فریم ورک، انفراسٹرکچر کی تیاری، فیکلٹی کے انتظامات اور مالی امور سمیت تمام پہلوؤں پر سفارشات مرتب کرے گی۔یہ اقدام صوبائی مینجمنٹ سروس کے افسران کا دیرینہ مطالبہ بھی تھا۔ پی ایم ایس وہ کیڈر ہے جو پنجاب میں ضلعی انتظامیہ، پالیسی پر عملدرآمد، ریگولیٹری نگرانی اور سیکریٹریٹ کے امور میں وفاقی سول سروس (سول سروس آف پاکستان) کے ساتھ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ 2010ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو وسیع تر خودمختاری ملی اور متعدد اہم شعبے وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے، جس کے نتیجے میں صوبوں کی قانون سازی، مالیاتی اور انتظامی ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس بدلتے ہوئے ماحول میں ایک اعلیٰ تربیت یافتہ اور مہارت یافتہ صوبائی بیوروکریسی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔تاریخی طور پر پاکستان کا سول سروس تربیتی نظام زیادہ تر وفاقی نوعیت کا رہا ہے جہاں ایلیٹ کیڈرز کو قومی سطح کے اداروں میں ابتدائی اور وسط مدتی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ صوبائی افسران کو عموماً داخلی انتظامات پر انحصار کرنا پڑتا رہا ہے۔ پنجاب میں سیکشن افسران، اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکریٹریٹ عملے سمیت مختلف افسران کو مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ایم پی ڈی ڈی) میں تربیت دی جاتی رہی ہے، جو صوبے کا اعلیٰ ترین تربیتی ادارہ ہے۔ایم پی ڈی ڈی کو 12 جولائی 2002ء کو باضابطہ طور پر ایک مکمل انتظامی محکمہ کا درجہ دیا گیا۔