صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4روپے 58 پیسے کمی کا اعلان

17 فروری ، 2026

اسلام آباد( اسرار خان ) وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 4 روپے 58 پیسے تک کمی کر دی ہے، جس سے مہنگی بجلی سے متاثرہ صنعتوں اور کاروباری طبقے کو بڑا ریلیف ملے گا۔ اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو فروری 2026 سے نافذ ہوگا۔پاور ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ National Electric Power Regulatory Authority (نیپرا) کے 11 فروری 2026 کے حکم کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ نئے نرخ جنوری میں جاری کیے گئے سابقہ ٹیرف کی جگہ لیں گے اور دسمبر 2026 تک تمام تقسیم کار کمپنیوں، بشمول K-Electric، پر لاگو ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابقبی ون (B1) کیٹیگری 25 کلو واٹ تک کے چھوٹے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا نرخ 30.80 روپے سے کم ہو کر 26.23 روپے فی یونٹ ہو گیا ہے۔پیک آور ریٹ 36.74 سے کم ہو کر 35.74 روپے جبکہ آف پیک ریٹ 30.05 سے کم ہو کر 25.48 روپے ہو گیا ہے۔تاہم اب پہلی بار 1,250 روپے ماہانہ فکسڈ چارج عائد ہوگا۔25 سے 500 کلو واٹ تک کے صارفین کے لیے نرخ 30.73 سے کم ہو کر 26.16 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔ آف پیک ریٹ میں نمایاں کمی کے بعد یہ 27.41 سے کم ہو کر 22.83 روپے ہو گیا ہے۔فکسڈ چارج 1,250 روپے فی کلو واٹ برقرار رہے گا۔11 سے 33 کلو وولٹ صارفین کے لیے نرخ 31 سے کم ہو کر 27 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔آف پیک ریٹ 28.24 سے کم ہو کر 23.67 روپے ہو گیا ہے۔66 سے 132 کلو وولٹ اور اس سے زائد کے صارفین کے لیے نرخ 30.43 سے کم ہو کر 26.43 روپے فی یونٹ کر دیے گئے ہیں۔آف پیک ریٹ 27.96 سے کم ہو کر 23.38 روپے ہو گیا ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ فائدہ آف پیک ریٹس میں کمی کی صورت میں ہوا ہے، جو برآمدی اور مسلسل پیداواری صنعتوں کے لیے نہایت اہم ہے۔نئے شیڈول آف ٹیرف کے تحت:لائف لائن صارفین (50 یونٹ اور 100 یونٹ تک) بدستور 3.95 اور 7.74 روپے فی یونٹ ادا کریں گے اور ان پر کوئی فکسڈ چارج لاگو نہیں ہوگا۔