عمران کے طبی معائنے باوجود پارلیمنٹ ہائوس میں اپوزیشن ارکان اسمبلی کا دھرنا جاری

17 فروری ، 2026

اسلام آباد (عاصم جاوید)عمران کے طبی معائنے کے باوجود پارلیمنٹ ہائوس میں اپوزیشن ارکان اسمبلی کا دھرنا جاری،اپوزیشن اتحاد کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ ۔ ذاتی معالجین اور فیملی ارکان کی پانی پی ٹی ائی سے ملاقات  کے مطالبات  کیساتھ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنا پیر کو چوتھے روز بھی جاری رہا۔رکاوٹیں ہٹائے جانے پر کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز کے باہر دھرنا دینے والے ارکان بھی  مرکزی دھرنے میں شامل، دریں اثنا تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین نے تصدیق کی کہ رکاوٹیں ہٹائے جانے کے بعد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز کے باہر دھرنا دینے والے ارکان بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری دھرنے میں شامل ہو گئے، جس کی قیادت محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے سوشل میڈیا پر پارلیمنٹ ہاؤس کی مرکزی لابی میں جاری دھرنے کی تصاویر بھی شیئر کیں۔چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی ملاقات کرائی جائے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری دھرنے کے دوران اپوزیشن اتحاد کی قیادت نے اتوار کو بانی پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں ہونے والے طبی معائنے اور اس حوالے سے پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ پر غور کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے جیل انتظامیہ سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی ہے وہ رپورٹ میں تحریر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر پارٹی کے اندر کوئی اختلاف نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کئے جاتے ہیں۔ بانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق اہم فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز صرف معائنہ کر کے رائے دیتے ہیں، وہ خود ڈاکٹر نہیں، اس لئے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ہی ان کی صحت سے متعلق مستند رپورٹ دے سکتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ معالجین تازہ طبی رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے، لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور صحت کا معاملہ ہے۔