غیر قانونی افغان باشندوں کیخلاف پنجاب بھر میں کومبنگ آپریشنز کا حکم

06 مارچ ، 2026

لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کومبنگ آپریشنز اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کو مذہبی و کمیونٹی قیادت کے ساتھ روابط مزید مؤثر بنانے اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ حساس صورتحال کو پیشگی بنیادوں پر سنبھالا اور مذہبی رہنماؤں سے مکالمے کو فروغ دے کر کسی بھی تناؤ کو بڑھنے سے پہلے ختم کیا جائے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں گیا۔معتبر ذرائع نے "جنگ" کو بتایا کہ 4 مارچ کو ہونے والے اس اہم اجلاس میں لاہور کور کمانڈر سمیت عسکری و سول اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں فیلڈ انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبے بھر میں“وسیع کومبنگ آپریشنز اور مستند انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز”کے ذریعے غیر قانونی افغان باشندوں کی نشاندہی کرکے انہیں حراست میں لیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں مقیم افغان شہریوں کے ویزوں کی حیثیت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق امیگریشن قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، خصوصاً ان صوبوں میں جہاں تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔سکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) محمد منشاء کے مطابق افغان شہریوں کی نقل و حرکت اور ویزا شرائط کی نگرانی کے لیے صوبائی حکام، امیگریشن محکموں اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اہلِ تشیع کمیونٹی کی قیادت کے ساتھ رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں اور کمیونٹی نمائندوں سے قریبی رابطہ رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ فرقہ وارانہ کشیدگی یا تشدد کو بروقت روکا جاسکے۔حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ حساس صورتحال کو پیشگی بنیادوں پر مؤثر طریقے سے سنبھالا جائے اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مکالمے کو فروغ دے کر کسی بھی تناؤ کو بڑھنے سے پہلے ختم کیا جائے۔ اجلاس میں پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چینی شہریوں کی سکیورٹی مزید سخت بنائیں اور چینی سرمایہ کاری سے متعلق منصوبوں کے فوکل پرسنز اور صوبے میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھیں۔حکام کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ چینی عملے کی نقل و حرکت کے دوران سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور سکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔پاکستان میں ہزاروں چینی انجینئرز اور کارکنان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری منصوبوں میں مصروف ہیں جن میں توانائی کے منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور صنعتی زونز شامل ہیں۔سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں سے متعلق کسی بھی سکیورٹی غفلت کے سنگین سفارتی اور معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق صوبائی قیادت نے کمشنرز، آر پی اوز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ سول انتظامیہ اور پولیس کے باہمی تعاون کے ذریعے ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔