بگرام میں ٹارگٹ حاصل کرلیا‘طالبان رجیم کا انفرااسٹرکچر تباہ کردیا‘ سکیورٹی حکام

06 مارچ ، 2026

راولپنڈی (ارشد عزیز ملک) اعلیٰ سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ بگرام میں ٹارگٹ حاصل کرلیا، طالبان رجیم کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا، پاکستان افغانستان کو فتح کرنا نہیں چاہتا بلکہ صرف اپنا تحفظ یقینی بنانا چاہتا ہے، تاہم جب تک سکیورٹی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے افغانستان میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔ افغانستان میں کس کی حکومت ہونی چاہیے اس کا فیصلہ افغان عوام خود کریں گے تاہم افغان رجیم جو کچھ کر رہی ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ایران سے پاکستان کا تقابل درست نہیں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں     سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی حکام نے کہا کہ افغانستان میں مفتی نور ولی، حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج اور فتنۂ ہندوستان سے وابستہ عناصر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے خود ہی دہشت گردوں اور اپنے درمیان فرق ختم کر دیا ہے اور اب وہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرست بن چکے ہیں، اس سلسلے کو بند کرنا ہوگا  پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی جا رہی ہے اور افغان رجیم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور اسے خطرات کی نوعیت کا مکمل ادراک ہے۔حکام کے مطابق باگرام ایئربیس پر کارروائی کا مقصد وہاں موجود اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا ۔حکام نے کہا کہ پاکستان عسکری لحاظ سے مضبوط ہے اور مختلف نوعیت کی جنگیں لڑنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے، اس لیے اسے کسی بیرونی خطرے کا خوف نہیں انہوں نے کہا کہ بفر زون ہو یا واخان کی پٹی، پاکستان ہر صورت اپنے ملک کا دفاع کرے گا۔اندرونی صورتحال کے حوالے سے سکیورٹی حکام نے کہا کہ نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد سے پاکستان میں داخلی خطرات ختم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور عوام جب چاہیں واپس جا سکتے ہیں۔سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کے بعد افغانستان کی جانب سے فائرنگ میں کمی آئی ہے اور افغان فورسز کے جنگی دعوے بھی غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنا افغان رجیم کو دباؤ کا سامنا ہو رہا ہے اتنی ہی صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے۔