عالمی قانون پر عمل، بچوں کی ہلاکتیں روکیں، تب یہود دشمنی کم ، یہودی امریکی مصنفہ

16 مارچ ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) عالمی قانون پر عمل، بچوں کی ہلاکتیں روکیں، تب دیکھیں یہود دشمنی کم ہوتی ہے، یہودی امریکی مصنفہ ناؤمی وولف کا کہنا ہے اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو دبانے کے بجائے انسانی حقوق کی پاسداری ضروری ہے، غزہ بچوں کی اموات نے عالمی ضمیر جھنجھوڑ دیا، انسانی حقوق خلاف ورزیاں روکنے سے عالمی ردعمل کم ہو سکتا ہے۔ معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر معذرت نہ ہونے سے دنیا بھر میں غم و غصہ، یہود دشمنی کے مباحث کو ہوا مل رہی ہے۔ اسرائیل پر تنقید اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی کے حوالے سے جاری بحث کے دوران بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ اسرائیلی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے جڑا ہوا ہے، اور اگر بچوں کی ہلاکتیں رک جائیں اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کی جائے تو ممکن ہے کہ عالمی سطح پر یہود دشمنی میں بھی کمی آ جائے۔ ناؤمی وولف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں غزہ اور دیگر علاقوں میں بچوں کی ہلاکتوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب معصوم بچوں کی جانیں جا رہی ہوں اور اس پر معذرت یا ذمہ داری قبول نہ کی جائے تو عالمی سطح پر ردعمل پیدا ہونا فطری امر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں اس وقت یہود دشمنی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس مسئلے کا حل تنقید کو دبانا نہیں بلکہ ایسے اقدامات روکنا ہے جو عالمی قوانین اور انسانی اقدار کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ اگر بچوں کی ہلاکتیں بند کر دی جائیں، بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کی جائے اور مبینہ مظالم سے اجتناب کیا جائے تو پھر دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا دنیا میں یہود دشمنی میں واقعی کمی آتی ہے یا نہیں۔