ایران کے نئے سپریم لیڈر روس میں؟ ماسکو میں ٹانگ کا ہنگامی آپریشن، برطانوی میڈیا

16 مارچ ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) ایران کے نئے سپریم لیڈر روس میں؟ ماسکو میں ٹانگ کا ہنگامی آپریشن، برطانوی میڈیا کے مطابق روسی فوجی طیارے میں ایران سے روس تک سفر کیا، آپریشن پوٹن کے صدارتی محل میں کامیابی سے مکمل، فضائی حملے میں شدید چوٹیں، کوما کا ذکر، ٹانگیں کٹ گئیں، جگر یا معدہ پھٹنے کی متضاد اطلاعات، ایرانی وزیر صحت کی نگرانی میں علاج جاری، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بعض مبصرین نے موت کا امکان ظاہر کیا۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو اپنے والد کی شہادت کے بعد نئے رہنما بنے ہیں، تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ڈیلی میل کے مطابق ایران کے زخمی نئے سپریم لیڈر کو ٹانگ کے ہنگامی آپریشن کے لیے ماسکو لے جایا گیا ہے۔ لیکن متعدد رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک فضائی حملے کے بعد کوما میں چلے گئے تھے۔ بعض مبصرین بشمول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے ʼالجریدہʼ کے مطابق خامنہ ای کی چوٹوں کے باعث انہیں روس بھیجنا پڑا جہاں ان کا آپریشن ذاتی طور پر پوٹن کی پیشکش پر کیا گیا۔ نئے آیت اللہ کو ملک سے خفیہ طور پر نکالنے کا مشن انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس میں ان کا روسی فوجی طیارے میں سفر شامل تھا۔ اس کے بعد وہ پوٹن کے صدارتی محلات میں سے ایک میں گئے جہاں ان کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ الجریدہ کا دعویٰ ہے کہ اسے یہ معلومات ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی ایک اعلیٰ سطحی ذریعے سے ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خامنہ ای جنگ کے ابتدائی مرحلے میں زخمی ہوئے تھے اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کے باعث ان کی چوٹوں کا علاج ایران میں ممکن نہیں تھا۔یہ واضح نہیں ہے کہ مجتبیٰ اسی فضائی حملے میں زخمی ہوئے جس میں ان کے 86 سالہ والد شہید ہوئے تھے۔ایک علیحدہ ذریعے نے لندن میں مقیم ایک جلاوطن مخالف کو بھیجے گئے خفیہ پیغامات میں بتایاان کی ایک یا دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں۔