پنجاب انفارمیشن کمیشن کا ایمرسن یونیورسٹی ملتان کو بھرتیوں کا ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم

16 مارچ ، 2026

لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب انفارمیشن کمیشن نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کو حکم دیا ہے کہ وہ کنٹرولر امتحانات اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتیوں سے متعلق تفصیلی ریکارڈ سات روز میں  فراہم کرے، جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے معلومات کو شفافیت کے قانون کے تحت خفیہ قرار دینے کا مؤقف مسترد کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی رجسٹرارکا کہنا ہےکہ  ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے تاکہ کمیشن کی ہدایات کے مطابق اسے عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے ’’جنگ‘‘ کو ملنے والے دستاویزات کے مطابق یہ احکامات چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ اور انفارمیشن کمشنر بشریٰ ثاقب نے ڈاکٹر محمد عرفان جاوید جو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں کی جانب سے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت دائر شکایت پر جاری کیا گیا۔ درخواست گزار نے 2023 میں مشتہر ہونے والی اسامیوں کے لیے ہونے والے بھرتی عمل سے متعلق مصدقہ معلومات اور دستاویزی شواہد طلب کیے تھے۔ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر عرفان جاوید نے 19 اکتوبر اور 30 اکتوبر 2025 کو یونیورسٹی کے رجسٹرار کو دو الگ درخواستیں جمع کرائیں جن میں شفافیت کے قانون کی دفعات 10 اور 11 کا حوالہ دیا گیا تھا۔ پہلی درخواست میں اشتہار نمبر Ad EUM/Non-Teaching/2023-02 کے تحت مشتہر ہونے والی کنٹرولر امتحانات کی اسامی کے لیے بھرتی کے مکمل عمل کی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔درخواست میں اشتہار کی نقل، سکروٹنی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن اور اس کے قانونی اختیار کی تفصیل، کمیٹی کے ارکان کو جاری کردہ کال لیٹرز، سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی اور اجلاسوں کے منٹس اور اسامی کے لیے منظور شدہ اہلیت کے معیار کی تفصیلات طلب کی گئیں۔اس کے علاوہ شارٹ لسٹنگ کے معیار، شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں کی فہرست بمعہ تعلیمی و پیشہ ورانہ کوائف، سلیکشن بورڈ کے قیام کا نوٹیفکیشن اور اس کے قانونی جواز کی تفصیلات بھی مانگی گئیں۔