گورنمنٹ کالج چونا منڈی کو ختم کر کے اسےثقافتی سرگرمیوں کامرکزیا ہوٹل بنانے کا منصوبہ

02 اپریل ، 2026

لاہور(پرویز بشیر سے)گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج چونا منڈی جس میں اس وقت 1500 کے لگ بھگ طالبات زیر تعلیم ہیں کو ختم کر کے اسے ثقافتی سرگرمیوں یا ہوٹل کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس سے پہلے بھی آج سے آٹھ 10 سال پہلے شہباز شریف جب وزیراعلیٰ تھے اس قسم کی کوشش کی گئی تھی جب کامران لاشاری اندرون شہر کی تزائین و آرائش اور ثقافت کو اُجاگر کرنے کے مشن کی سربراہی کر رہے تھے تاہم میڈیا کے شور مچانے اور حمزہ شہباز کی مداخلت پر یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا تھا اب اس مرتبہ پھر انکے اداروں کے ساتھ اس کالج کی حیثیت ختم کی جا رہی ہے منگل 31 مارچ کو ڈائریکٹر کالجز نے کالج کی پرنسپل سے ملاقات کر کے کالج ختم کرنے کے منصوبے سے ان کو آگاہ کر دیا جس سے کالج سٹاف اور 1500 طالبات میں بے چینی اور سخت مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے سب حیران ہیں کہ پڑھا لکھا پنجاب کے نعرے کے برعکس دیگر ثانوی مقاصد کو کیوں ترجیح دی جا رہی ہے اس سے پہلے اس کالج کا نام نواز شریف کالج تھا 1988 میں جب نواز شریف وزیر اعلی تھے یہاں سی آئی اے سینٹر تھا جو بعد ترین تشدد کے لیے استعمال ہوتا تھا کو ختم کر کے کالج بنانے کی منظوری دی گئی تھی 30 سال تک مسلم لیگ (ن ) کی حکومت اس علاقے کے لیے تعلیمی ادارہ بنانے کا کریڈٹ لیتی رہی اب خود ہی اس علاقے کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے ڈائریکٹر کالجز نے پرنسپل کو جلد از جلد کالج ختم کرنے کا کام مکمل کرنے کے لیے احکامات دے دیئے ہیں اور کہا کہ یہ اوپر سے سخت احکامات ہیں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کی بورڈ آف گورنرز سے بھی منظوری نہیں لی گئی کالج حکام نے بتایا کہ کئی سال سے بورڈ آف گورنرز کے نام وزیراعلی کو منظوری کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن اس کی منظوری نہیں ہوئی محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ تمام طالبات کو قریبی اور مقامی ایسوسی ایٹ کالجز میں منتقل کر دیا جائے گا تاہم کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بی ایس کے اس سیشن جس کی منظوری پنجاب یونیورسٹی سے لی گئی تھی قریبی کالجوں میں موجود نہیں ہے۔