CSA میں انقلابی اصلاحات کا آغاز، 54واں کامن ٹریننگ پروگرام شروع

02 اپریل ، 2026

لاہور (آصف محمود بٹ)سول سروسز اکیڈمی میں انقلابی اصلاحات کا آغاز، 54واں کامن ٹریننگ پروگرام شروع۔پروبیشنرز کی جامع نفسیاتی پروفائلنگ، والدین کی شمولیت سے تربیت کا نیا باب کھل گیا شواہد پر مبنی، مربوط اور تسلسل پر قائم نظام، پالیسی ساز بیوروکریسی کی تشکیل ہدف۔ ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ بدلتے ہوئے حکمرانی کے نظام میں اب صرف انتظامی صلاحیت کافی نہیں بلکہ پالیسی سازی، تجزیاتی سوچ اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی مہارت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ پاکستان کی سول بیوروکریسی کی تربیت کے نظام میں ایک بڑی اور دور رس تبدیلی کے تحت سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کے ساتھ ہی ایک جامع اصلاحاتی پیکج بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد نہ صرف تربیتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے بلکہ سول سرونٹس کی فکری، پیشہ ورانہ اور اخلاقی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا بھی ہے۔ اکیڈمی کے والٹن کیمپس میں منعقدہ پروقار افتتاحی تقریب نئے منتخب ہونے والے سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) افسران کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہوئی، جہاں وہ باقاعدہ طور پر ایک منظم، سخت اور ہمہ جہت تربیتی نظام میں داخل ہوئے۔ تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا جو دو پروبیشنری افسران نے انجام دی، یہ عمل اتحاد، نظم و ضبط اور ریاستی خدمت کے مشترکہ عزم کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس مرتبہ تربیتی عمل میں ایک نمایاں اور منفرد پیش رفت کے طور پر “پری ٹریننگ انگیجمنٹ فیز” متعارف کرایا گیا ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ یہ اصلاحات دراصل ایک وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جس کے تحت سول سروس کی تربیت کو جدید، شواہد پر مبنی اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے انہوں نے واضح کیا کہ اکیڈمی ایسے افسران تیار کرنا چاہتی ہے جو محض احکامات پر عمل کرنے والے نہ ہوں بلکہ وہ حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر سکیں اور پیچیدہ انتظامی چیلنجز کا ادراک رکھتے ہوں سرکاری حلقوں کے مطابق 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کا آغاز سول سروسز اکیڈمی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو ادارے کو ایک جدید، متحرک اور مستقبل بین تربیتی مرکز میں تبدیل کرنے کی جانب پیش رفت ہے۔  سی ایس اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور آنے والے مراحل میں تربیتی جدیدیت، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے مزید اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ سول سروس کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکے۔