اسلام آباد (رانا غلام قادر، طاہر خلیل) پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی وزارت خارجہ کے سینئر حکام کا اہم اجلاس منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں علاقائی اور عالمی امور پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق اور علاقائی استحکام اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے نئے فریم ورک کی ضرورت ہے، ذرائع کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ رواں ہفتے ترکیہ میں ملاقات کریں گے جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائیگا، دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زراری سے ملاقات کی جس میں سیکورٹی و سفارتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعظم نے امریکا ایران مذاکرات اور ثالثی کے تمام پہلوئوں پر صدر مملکت کو بریفنگ دی اور سعودیہ، ترکیہ کے مجوزہ دوروں پر اعتماد میں لیا، ادھر وزیر خارجہ اسحق ڈار کا ترکیہ،کینیڈا، کویت، رومانیہ کے وزرائے خارجہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یورپی یونین کے نائب صدر سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میںامریکا ایران مذاکرات سمیت حالیہ پیش رفت اور علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، تمام رہنمائوں نے پاکستان میں امریکا ایران براہ راست مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کیلئے پاکستانی تعمیری کردار کو سراہا،تنازعات کے حل کیلئے سفارتکاری پر زور دیا اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں متعلقہ ممالک کی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام کا اجلاس ہوا۔ سینئر حکام کے اجلاس (SOM) میں پاکستان کے وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ/ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے کی۔ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وفود کی قیادت بالترتیب نائب وزیر خارجہ سفیر موسی کولاکلی کایا، معاون وزیر خارجہ سفیر ناظح النگاری اور وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو چاروں برادر ممالک کے آئندہ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو 17 اپریل 2026 کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہوگا۔ یہ اجلاس انطالیہ ڈپلومیسی فورم (ADF) کے موقع پر ہو گا۔ بعدازاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ترکیہ کے نائب وزیرِ خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلی کایا ، مصر کے اسسٹنٹ وزیرِ خارجہ سفیر ناظح النگاری اور سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے ملاقات کی۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان قریبی، برادرانہ تعلقات اور اہم علاقائی و عالمی امور پر نظریات کی یکسانیت کو سراہا۔ انہوں نے چاروں ممالک کے درمیان امن، خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک تعاون پر مبنی فریم ورک وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے آج ایوانِ صدر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کی انتھک کوششوں کو سراہا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر صدر کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے صدر مملکت کو امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے آئندہ دورہ سعودی عرب اور ترکیہ کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔صدر زرداری نے اس سفارتی اقدام کو کامیاب بنانے کیلئے وزیراعظم، نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ، چیف آف ڈیفنس فورسز اور تمام ریاستی اداروں کی انتھک کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مثالی ہم آہنگی اس اعلیٰ سطحی رابطے کو ممکن بنانے میں کلیدی ثابت ہوئی۔صدر مملکت نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تاریخی کردار کو سراہا۔ صدر زرداری نے کہا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ بڑی علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ امن کے عمل کے تسلسل اور علاقائی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر رانا ثناء،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمان اورنیر بخاری بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال بشمول حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی ہم آہنگی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ منعقد ہونے والے ’’انطالیہ ڈپلومیسی فورم‘‘ کے موقع پر اہم مصروفیات پر بھی بات چیت کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈارسے کویت وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الصباح اور رومانیہ وزیرِ خارجہ اوآنا سلویہ توئیو ، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ اور نائب صدر کاجا کالس سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس دوران مختلف امور بار تبادلہ خیال کیا گیا۔کویت کے وزیرِ خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور اس حوالے سے نائب وزیرِاعظم ووزیرِ خارجہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور کویت کے مضبوط تعلقات کی توثیق کی اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔یورپی یونین کے نائب صدر کا جا کالس نے پاکستان میں امریکا ایران براہ راست مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کیلئے پاکستانی تعمیری کردار کو سراہا۔ فریقین نے تنازعے کے حل کیلئے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور خطے میں امن کے فروغ کیلئے نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کی کاوشوں کی تعریف کی اور اس ضمن میں پاکستان کی جاری کوششوں کے لئے اقوامِ متحدہ کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا۔ کینیڈین وزیر خارجہ نے ایران امریکا بات چیت میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوآنا سلویہ توئیو نے اسلام آباد مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات میں مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے مسلسل مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ دریں اثناء وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے منگل کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ رواں ہفتے ترکیہ میں اپنے ترک ہم منصب سے ملاقات کریں گے جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "علاقائی معاملات پر بحث کے لیے ان چاروں ممالک کا یہ تیسرا اجلاس ہے، اور یہ خاص طور پر ہرمز (Hormuz) کے حوالے سے نہیں ہے۔ یہ اعلیٰ سفارت کار جنوبی ترکیہ میں جمعہ سے شروع ہونے والے ایک سالانہ سفارتی فورم کے موقع پر مذاکرات کریں گے۔