کراچی سے دو بندے اٹھانے کی دیر پتہ چل جائیگا پیسہ باہر کیسے گئے، وزیر داخلہ

15 اپریل ، 2026

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تین سال میں اربوں ملک سے باہر چلا گیا، بیرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کیلئے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جسکے بعد سب پتہ چل جائیگا، بزنس مین بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالر واپس لے آئیں، یہ مشکل کام نہیں، تاجر فیصلہ کرلیں تو ناممکن بھی نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں ایف پی سی سی آئی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی کریں گے، فیلڈ مارشل کوئی بات کرتے ہیں یا زبان دیتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں، ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔ محسن نقوی نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کیلئے ماحول اچھا ہو جائیگا جبکہ دبئی اور بیرون ملک موجود تمام نہیں بلکہ 20 سے 30 فیصد پیسہ واپس لے آئیں گے، کچھ زیادہ نہیں ان لائن جاکر پیسہ روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے ذریعے لانے ہیں۔ محسن نقوی نے خوش خبری سنائی کہ بجٹ سے پہلے 20 سے 25 ارب ڈالر پاکستان لانا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں ایک گھنٹے میں دس ہزار پائونڈز منتقل ہوسکتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ منی چینجر کام نہیں کررہے، منی چینجر وہاں کام کرتا ہے جہاں سیاح آتے ہوں، یہاں کون سے سیاح آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسچینج کمپنیاں صرف پیسوں کے انتظام کیلئے ہیں، منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں، تاجر، صنعت کار اور کاروباری افراد منی ایکسچینج کے بجائے بینک کے ذریعہ کام کریں۔محسن نقوی نے کہا کہ تجاویز مرتب کرلی ہیں جلد وزیر اعظم کو پیش کرینگے، بزنس مین کیلئے علیحدہ پاسپورٹ کے اجرا کی تجویز تیار کی ہے۔