امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات،تہران کا سرنڈرسے انکار،مذاکرات کی ناکامی کی وجہ

15 اپریل ، 2026

کراچی (جنگ نیوز) امریکی جریدے ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں بتایا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات کو بچانے کےلیے پاکستانی حکام انتہائی سرگرم رہے۔ بالخصوص جنرل عاصم منیر کو ثالثی میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، امریکاایران سے یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ، افزودگی تنصیبا ت ختم کرنا، اوراس کے ذخائر کی ایران سے منتقلی چاہتا تھا، جبکہ ایران کا موقف تھا کہ یورینیم کی افزودگی عالمی قوانین کے تحت خودمختارانہ ریاستی حق ہے، جو پرامن سویلین استعمال کے لیے ضروری ہے،ایرانیوں کا یہ کہنا بھی تھا کہ امریکا جو کچھ جنگ میں حاصل نہیں کرسکا وہ سب کچھ میزپر حاصل کرنا چاہتا تھا اور ان کے مطالبات بڑھتے چلے جارہے تھے۔ امریکا کی طرف سے ایک بڑا اور جامع معاہدہ پیش کیا گیا، جس میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے، اسے مکمل طور پر عالمی برادری میں شامل کرنے، اور حتیٰ کہ مستقبل میں شراکت داری کی پیشکش بھی شامل تھی۔ واشنگٹن یہ جانچنا چاہتا تھا کہ آیا ایران کی قیادت، جو چھ ہفتوں کی جنگ کی تباہی اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کے بعد کمزور ہوئی ہے، اب امریکی شرائط کے سامنے جھکنے پر آمادہ ہے یا نہیں، جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے۔تاہم ایران تہران اس وقت کسی ایسے معاہدے کے لیے تیار نہیں تھا جسے وہ مکمل “سرنڈر” یعنی ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھے۔پاکستانی حکام مذاکرات کو بچانے کے لیے انتہائی سرگرم رہے، اور ایرانی وفد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکی وفد کے ساتھ روانگی کے بعد بھی کئی گھنٹے تک پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت کرتا رہا۔واشنگٹن کے لیے اصل رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام تھا۔ جبکہ ایران کی تشویش زیادہ بنیادی نوعیت کی تھی۔ ایران کے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وفد بالآخر ایرانی مذاکراتی ٹیم کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایران کے مطابق اسے خدشہ ہے کہ اگر وہ کوئی رعایت دے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، کیونکہ گزشتہ سال مذاکرات کے دوران دو مرتبہ ایران پر بمباری ہو چکی ہے۔ تہران چاہتا تھا کہ اس بار جنگ کے خاتمے کی مکمل اور قابلِ اعتماد ضمانت دی جائے۔واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر ماہر کامران بخاری کے مطابق امریکی مطالبات اتنے سخت تھے کہ ایران کے لیے اس پر رضامندی ظاہر کرنا سیاسی طور پر ممکن نہیں تھا، کیونکہ اس سے اندرون ملک حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچتا۔ ان کے مطابق امریکی وفد کا اچانک نکل جانا “ٹرمپ کے مذاکراتی انداز کی کلاسیکل حکمت عملی” تھی۔پاکستان کے طاقتور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس ثالثی کردار میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات ہیں، جبکہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ایک ریٹائرڈ پاکستانی جنرل کے مطابق پاکستان فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھے گا، اور امکان ہے کہ ایران اندرونی مشاورت کے بعد ایک نیا جوابی مسودہ پیش کرے اور دوبارہ ملاقات کی کوشش کرے۔ان کا کہنا تھا: “ابھی تک کسی فریق نے یہ نہیں کہا کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔واشنگٹن میں سینئر محقق سینا طوسی کے مطابق دونوں فریقوں کے پاس مذاکرات جاری رکھنے کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ نئی جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کی اندرونی سیاسی صورتحال اور سخت مؤقف اپنانے کا رجحان دوبارہ تصادم کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔