ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات

15 اپریل ، 2026

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات، 128 ارب کے بقایا جات پر او سی اے سی کا احتجاج؛ ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں اور پرائس ڈفرنشل کلیمز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی دباؤ پیٹرولیم سیکٹر کی لیکویڈیٹی (نقدی کے بہاؤ) کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی کا نظام خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو 13 اپریل 2026 کو لکھے گئے ایک تفصیلی خط میں، صنعتی ادارے نے کہا ہے کہ دو بیک وقت ہونے والی تبدیلیاں،یعنی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ترمیم اور ریگولیٹری ادائیگیوں میں تاخیر،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ’’شدید مالی دباؤ‘‘ ڈال رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کمپنیاں ملک بھر میں ایندھن کی خریداری اور تقسیم کی ذمہ دار ہیں۔اس تنازع کی بنیاد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلی ہے، جس کے تحت حکومت نے قیمت کے معیار کو’’اوسط‘‘ ایف او بی پلیٹس (عرب خلیج) کوٹیشن سے بدل کر، مقررہ مدت کے دوران کی ’’کم ترین‘‘ ایف او بی پلیٹس کوٹیشن پر منتقل کر دیا ہے۔ اگرچہ اس اقدام کا مقصد قیمتوں کے تعین کے نظام کو بہتر بنانا اور صارفین کو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچانا سمجھا جاتا ہے، لیکن او سی اے سی نے خبردار کیا ہے کہ نیا طریقہ کار پٹرولیم کی درآمدی معیشت کے حقیقی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔ کونسل کے مطابق، تیل کی درآمدات عام طور پر ٹینڈر پر مبنی خریداری کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہیں جو کارگو کی دستیابی، جہاز رانی کے شیڈول اور لین دین کے وقت پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے خریداری کی اصل قیمتیں کسی بھی دن کی ’’کم ترین‘‘ ریکارڈ شدہ قیمت کے بجائے مارکیٹ کی ’’اوسط سطح‘‘ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہیں۔صنعتی ادارے نے دلیل دی ہے کہ مقررہ معیار اور خریداری کی اصل لاگت کے درمیان یہ ساختی فرق عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے دوران خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔