سفارتی مشن کا اگلا اہم قدم،وزیراعظم آج عازم سعودی عرب ہونگے

15 اپریل ، 2026

اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) مشرقی وسطیٰ میں امن کے لئے پاکستان کے سفارتی مشن کا اگلا اہم قدم آج اس وقت اٹھایا جائے گا جب وزیراعظم شہبازشریف عازم سعودی عرب ہوں گے، جہاں (بدھ) کی شام ان کی سعودی وزیراعظم ولی عہد شہادہ محمد بن سلمان سے ان کے ساحلی محل میں حد درجہ اہم ملاقات ہوگی۔ امکان ہے  جمعرات کی شب واپس آجائیں گے ٹرمپ کے اعلان کے مطابق مذاکرات میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں گے  اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی کا بھی قوی امکان ہے، لائق اعتماد ذرائع نے جنگ/ دی نیوز کو منگل کی شب بتایا ہے کہ ایران، امریکہ مذاکرات کے آئندہ چار دنوں میں شروع ہونے والے دوسرے مذاکراتی دور، جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور ایران، امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے تناظر میں اس ملاقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگی، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس موقع پر سعودی حکمرانوں کا فراخدلانہ، مالی اعانت پر شکریہ ادا کرے گی، جس میں پاکستان کو سعودی عرب اور قطر سے مشترکہ طور پر پانچ ارب ڈالر کی خطیر رقم ملے گی، اس موقع پر گوادر میں بارہ ارب ڈالر کی لاگت آئل ریفائنری کی تعمیر اور ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بارے بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے وفد کے ارکان کے ہمراہ خانہ کعبہ میں حاضری دیں گے، عمرہ ادا کریں گے اور پاکستان کو ملنے والی عالمی عزت و توقیر پر شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے اس دورے کو امن کے لئے سفارتی مہم و ڈپلومیٹک افینو فارپیس کا نام دیا گیا ہے، جس میں وہ کل (جمعرات) دوھا پہنچیں گے اور قطر کے امیر تمیم بن حماد الہنانی سے ملاقات کریں گے اور پاکستان کی مالی اعانت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے تمام اور پیش آمدہ امکانات بارے مشاورت کریں گے۔ پاکستانی وفد کل ہی ترکیہ کا سفر اختیار کرے گا، جس کی دعوت ترک صدر طیب اردوان نے دی ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جنہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو اسٹیٹ مسیحا قرا دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کو زبردست انسان گردانا ہے۔ صدر اردوان سے ملاقات اور مشاورت کے بعد اناطولیہ میں ڈپلومیٹ فورم کانفرنس سے وزیراعظم شہبازشریف کا کلیدی خطاب ہوگا۔