پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی قانون میں ترامیم کا فیصلہ

09 مئی ، 2026

اسلام آباد(تنویر ہاشمی ،کامرس رپورٹر)پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی گورننس، شفافیت، کارکردگی اور نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کےلیےپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے قانون میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مجوزہ ترامیم میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیےدرکار زمین، بجلی اور دیگر یوٹیلٹی سہولیات تک رسائی آسان بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے تاکہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ہو سکے، اس حوالے سےوفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے قانون میں مجوزہ کلیدی ترامیم کا جائزہ لیا گیا،وفاقی وزیر احد چیمہ نے اجلاس کوبتایا کہ حکومت کی جانب سے ایسی تعمیری اور مستقبل بین اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جو ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنائیں گی اور پی پی پی منصوبوں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنائیں گی۔انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی قانون میں مجوزہ ترامیم کا اعتراف کیا اور ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مجموعی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ان مجوزہ اصلاحات کے تحت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی منصوبوں کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد پر بھی توجہ مرکوز کرے گی، وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بہتر ہم آہنگی، ادارہ جاتی توازن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اتھارٹی اب پلاننگ ڈویژن کے بجائے نجکاری ڈویژن کے ماتحت کام کرے گی۔شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ان اصلاحات کا مقصد مسائل کے حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، نگرانی کے نظام کو بہتر کرنا اور بہتر اوور سائیٹ کے لیے مشاورتی کردار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔