ایران نے امریکی فوج کو نقصان پہنچایا، پینٹاگون کی سچائی چھپانے کی کوششیں

09 مئی ، 2026

کراچی (نیوز ڈیسک) ایران کے ساتھ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کم از کم 16؍ امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پینٹاگون مبینہ طور پر اس تباہی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک نے نقصان کی تصاویر شیئر کرنے والوں کو طویل قید کی سزائوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکا نے نجی سیٹلائٹ کمپنیوں پر بھی تصاویر جاری نہ کرنے کیلئے دبائو ڈالا ہے۔ اپریل کے اوائل میں کیلیفورنیا کی کمپنی پلانیٹ لیبز نے اعلان کیا کہ وہ خطے کی نئی تصاویر جاری کرنے کا عمل غیر معینہ مدت کیلئے روک رہی ہے تاکہ ’’مخالف عناصر‘‘ ان تصاویر کا استعمال نہ کر سکیں۔ 5؍ اپریل کو بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنیوں سے درخواست کی کہ وہ جاری تنازع کے باعث مخصوص علاقوں کی تصاویر جاری نہ کریں۔ اس کے باوجود ایران اور بعض چینی سیٹلائٹ آپریٹرز اپنی تصاویر جاری کرتے رہے، جن کے مطابق بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے۔ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مستقل اور عارضی نوعیت کے 19؍ فوجی اڈے چلاتا ہے، جن میں قطر کا العدید ایئر بیس سب سے بڑا ہے جہاں تقریباً دس ہزار فوجی تعینات ہیں اور یہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے۔ 2025ء کے وسط تک خطے میں چالیس تا پچاس ہزار امریکی فوجی موجود تھے۔ ایرانی حملوں کا ایک اہم مقصد امریکی فضائی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کرنا اور اس کے فضائی اثاثوں کو دور منتقل کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ تجزیوں کے مطابق امریکی فضائی کارروائیوں کی صلاحیت میں 35؍ سے 50؍ فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ایران نے امریکی ریڈار نظام کو نشانہ بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی، جس کے نتیجے میں بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں کئی اہم ریڈار تنصیبات تباہ ہو گئیں۔ ان حملوں کے باعث امریکا اور اسرائیل کی بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ 27؍ مارچ کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے میں 12؍ امریکی فوجی زخمی ہوئے، جن میں دو شدید زخمی تھے، جبکہ کئی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی حملے میں ایک اہم طیارہ بوئنگ ای-3 سنٹری (AWACS) بھی تباہ ہوا، جو نگرانی کا کام کرتا تھا اور اس کی مالیت تقریباً 270؍ ملین ڈالر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی 6؍ مئی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں میں مختلف اڈوں پر مجموعی طور پر 228؍ اثاثوں یا ساز و سامان کو نقصان پہنچا، جن میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، طیارے اور اہم ریڈار و دفاعی نظام شامل ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد اب تک 13؍ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 400؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم تہران کا دعویٰ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار جولز ہرسٹ نے 29؍ اپریل کو کانگریس کو دی گئی رپورٹ میں تخمینہ پیش کیا کہ جنگ کی وجہ سے امریکا کو تقریباً 25 ارب ڈالرز خرچ کرنا پڑے، جس کا بڑا حصہ اسلحہ پر خرچ ہوا۔ بعد ازاں وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا اس رقم میں فوجی اڈوں کی مرمت کی لاگت شامل ہے یا نہیں۔ قانون سازوں نے اس تخمینے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، کیونکہ پہلے پینٹاگون کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی 6؍ روز میں ہی تقریباً 11؍ ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔ رپورٹس کے مطابق، جنگ کے اصل اخراجات پیش کردہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی سی این این نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات کی مرمت کے اخراجات کو شامل کیا جائے تو مجموعی لاگت 40؍ سے 50؍ ارب ڈالر کے قریب ہو سکتی ہے۔ بعض اڈے، جیسے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر شدید اور تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے ’’تقریباً ناقابلِ استعمال‘‘ ہو چکے ہیں۔ نشانہ بنائی گئی تنصیبات اور پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کیلئے خبروں، سیٹلائٹ تصاویر اور سوشل میڈیا ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کے حفاظتی کردار کے تصور کو بھی متاثر کیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق بعض ممالک متبادل اتحادیوں کی تلاش پر غور کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کو توانائی کی برآمدات میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ متبادل کے طور پر چینی یوآن میں تیل کی تجارت پر غور کر سکتا ہے۔