فنانس بل 2026-27 میں ’’اسکروٹنی کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ

09 مئی ، 2026

اسلام آباد (مہتاب حیدر)فضول مقدمہ بازی کا خاتمہ: فنانس بل 27-2026 میں ’’اسکروٹنی کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ، ٹاسک فورس کی رپورٹ پر بڑا ایکشن: ایف بی آر میں ’’ممبر لیگل ریفارمز‘‘ کی نئی اسامی تخلیق کرنے کی سمری ارسال۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فضول مقدمہ بازی کو کم کرنے کے لیے آئندہ فنانس بل 27-2026 میں ایک اسکروٹنی کمیٹی تجویز کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ قانونی فورمز پر غیر ضروری کیسز کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور صرف میرٹ پر مبنی مقدمات ہی عدالتوں میں لے جائے جائیں۔ حکومت نے یہ اہم فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ کے دیگر اراکین کو پیش کی گئی اس تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے، جو شاد محمد کی سربراہی میں قائم کردہ ’’ٹاسک فورس برائے زیر التوا مقدمات‘‘ نے تیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی، ایف بی آر نے ممبر لیگل ریفارمز کی ایک نئی اسامی تخلیق کرنے کے لیے سمری بھی ارسال کر دی ہے، جس پر کسی سینئر افسر کی تعیناتی کا امکان ہے تاکہ ادارے میں ناگزیر قانونی اصلاحات کے عمل کو فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔ ٹاسک فورس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام مقدمہ بازی کے ایک شدید اور بڑھتے ہوئے بحران کا شکار ہے۔ اپریل 2026 تک، ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے مجموعی طور پر تقریباً 85480 مقدمات سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور اپیلٹ ٹربیونلز میں زیر التوا ہیں، جن میں صرف کسٹمز کے شعبے کے 278.009 ارب روپے کے محصولات فعال تنازعات کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ’’ان لینڈ ریونیو کے اصل نقصانات یا اس میں پھنسی ہوئی رقم کا قابل بھروسہ تعین نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جیسا کہ اس رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درج ہے، ایف بی آر کا اپنا کیس ڈیٹا آزاد عدالتی ریکارڈ کے ساتھ مکمل طور پر غیر ہم آہنگ اور تضادات کا شکار ہے۔‘‘ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کے لیگل ونگز کا جامع جائزہ لینے اور ایک معتبر اصلاحاتی فریم ورک تجویز کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ٹاسک فورس کی رپورٹ کے مطابق، عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر اپریل 2026 تک زیر التوا مقدمات کی کل تعداد 85480 ہے، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں مجموعی طور پر 1322 کیسز زیر التوا ہیں جن میں ان لینڈ ریونیو کے 909 اور کسٹمز کے 414 مقدمات شامل ہیں۔ ہائی کورٹس میں کل 17410 مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں سے 11995 کا تعلق ان لینڈ ریونیو اور 5414 کا کسٹمز سے ہے، جبکہ مقدمات کی سب سے بڑی تعداد یعنی 66747 کیسز مختلف ٹربیونلز میں زیر التوا ہیں جن میں ان لینڈ ریونیو کے 60893 اور کسٹمز کے 5884 مقدمات شامل ہیں۔ کسٹمز کے زیر التوا مقدمات میں سے ہائی کورٹ کے تقریباً 50 فیصد کیسز صرف سندھ ہائی کورٹ میں جمع ہیں۔ ان لینڈ ریونیو کے شعبے میں ٹربیونل کی سطح پر مقدمات کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، جہاں سالانہ تقریباً 10000 مقدمات نمٹانے کی موجودہ رفتار کے حساب سے صرف موجودہ بیک لاگ کو ختم کرنے میں ہی 6 سال لگ جائیں گے، جبکہ اس میں نئے دائر ہونے والے کیسز ابھی شامل نہیں ہیں۔ کسٹمز کے شعبے میں اس وقت 13750 مقدمات کی وجہ سے 278009 ملین روپے سے زائد کی رقم پھنسی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کا لیگل ونگ ’’ان لینڈ ریونیو‘‘ اور ’’کسٹمز‘‘ کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہے، اور دونوں شعبوں کے اپنے افسران اور اپیلٹ نمائندوں کا الگ الگ تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ اپنی تزویراتی اہمیت کے باوجود، تاریخی طور پر لیگل ونگ کو وہ ادارہ جاتی ترجیح نہیں دی گئی جو پالیسی یا آپریشنز ونگز کو حاصل رہی ہے۔ ٹاسک فورس کے جائزے میں ادارہ جاتی ڈھانچے، ڈیٹا کی درستی، ڈیجیٹل نظام اور گورننس کے نظم و ضبط میں پھیلی ہوئی منظم کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پالیسی، انفورسمنٹ (نفاذ) اور آپریشنل ونگز کے درمیان موثر ہم آہنگی کا فقدان ہے، جس کے نتیجے میں مختلف فورمز اور عدالتوں کے سامنے قانونی چارہ جوئی کے متضاد اور بکھرے ہوئے مؤقف سامنے آتے ہیں۔ ایف بی آر کا لیگل مینجمنٹ سسٹم عدالتی ریکارڈ کے ساتھ مکمل طور پر غیر ہم آہنگ اور تضادات کا شکار ہے۔ محکمے کے اندر اپیل سے قبل جائزے کا کوئی باقاعدہ اور منظم طریقہ کار موجود نہیں۔ مزید برآں، ادارے میں رائج موجودہ کلچر میرٹ پر مبنی قانونی چارہ جوئی کے بجائے محض ’’حفاظتی اپیلوں‘‘ کو ترجیح دیتا ہے، اور من مانے آڈٹ اور ٹیکس تخمینوں کے خلاف کوئی حفاظتی میکانزم موجود نہیں ہے، جو بلاوجہ عدالتوں پر بوجھ بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایف بی آر مستقل طور پر ان قانونی سوالات پر بھی اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے جنہیں اعلیٰ عدالتیں پہلے ہی طے کر چکی ہیں۔ لیگل ونگ کے اندر فیصل شدہ مقدمات کا کوئی مرکزی ڈیٹا بینک موجود نہیں ہے، اور فضول یا غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے پر جوابدہی کا بھی کوئی فریم ورک نہیں بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، قانونی مشیروں اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کا جائزہ مقدمات کے نتائج کی بنیاد پر نہیں لیا جاتا۔ آئی آر ایس اور کسٹمز دونوں شعبوں کے ممبر لیگل کے افسران فیلڈ کے قانونی آپریشنز پر ایک فعال نگران یا ہدایتی اتھارٹی کے طور پر کام نہیں کر رہے ہیں۔ فیلڈ دفاتر کو پالیسی اور ہدایات کسی منظم اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ آئی آر آئی ایس، وی بوک اور ایل ایم ایس الگ تھلگ پلیٹ فارمز کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان کے درمیان باہمی ہم آہنگی یا انضمام کا مکمل فقدان ہے۔ اپیلٹ ٹربیونلز کے پاس کیس مینجمنٹ کا کوئی ڈیجیٹل نظام موجود نہیں ہے۔ مزید برآں، کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 195C اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 134A کے تحت تنازعات کے متبادل حل کا نظام، تنازعات کے جلد اور سستے حل کا راستہ فراہم کرنے کے باوجود، بہت کم استعمال کیا جا رہا ہے۔