اسلام آباد ( مہتاب حیدر، تنویر ہاشمی )آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل اور چوتھی قسط، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹینیبل فیسلٹی (RSF) کے تحت دوسری قسط کی منظوری دے دی ہے،وزیر خزانہ کے مطابق اس منظوری کے نتیجے میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے۔واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈکا اجلاس،ای ایف ایف کی چوتھی اورآرایس ایف کی دوسری قسط کی منظوری دے دی گئی،رقم آئندہ ہفتے ادا کی جائیگی،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ حکومت نے کئی اہم شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے ، مالیاتی خسارے میں کمی آئی ہے ، مہنگائی کو مقررہ ہدف میں رکھنے کیلئے سخت زری پالیسی اورتوانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں جمعہ کے روز آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے EFF پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط اور RSF کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کی منظوری کی درخواست پر غور کیا گیا۔ اس 1.2 ارب ڈالر کی رقم کی اگلے ہفتے ادائیگی کی جائے گی جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف کے جائزہ مشن، جس کی قیادت آئیوا پیٹرووانے کی، نے 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستانی حکام کے ساتھ EFF کے تیسرے اور RSF کے دوسرے جائزے پر مذاکرات کیے، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا۔ آئی ایم ایف نے قرار دیا کہ فروری 2026 کے اختتام تک EFF پروگرام پر عمل درآمد عمومی طور پر حکام کے وعدوں کے مطابق رہا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق حکومت نے کئی اہم شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی، جن میں مالیاتی خسارے میں کمی کے ذریعے سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا، اور توانائی کے شعبے کی پائیداری بہتر بنانے کے لیے اصلاحات شامل ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ایم ایف کے مطالبات کے مطابق پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا۔ پاکستان نے ساختی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر بھی توجہ دی، کیونکہ حکومت معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں اخراجات بحال کرنے کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔ ان امور پر مذاکرات تاحال جاری ہیں۔خلیجی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان کو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی بنیاد پر مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں داخل ہو گئی۔ تاہم پاکستانی حکام بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بہتر کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے جی ڈی پی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنا پڑا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو مالی سال کے پہلے دس ماہ (جولائی تا اپریل) میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 684 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا۔
اسلام آباد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہم اجلاس میں پاکستان آنے والی بین الاقوامی ٹیلی فون...
اسلام آباد پاکستان اور بنگلہ دیش نے سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ سے روکنے کیلئے تعاون کو مضبوط بنانے پر...
اسلام آباد نجکاری کمیشن بورڈ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کےلئے...
کراچی اسرائیلی کمپنی رافیل بھارت میں آئرن ڈوم میزائل بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ پالیسی...
کراچیبچوں کی نظر تیزی سے کمزور ہونے لگی، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی،بچوں کی نظر تیزی سے کمزور ہونے لگی،...
کراچی صدرٹرمپ نے الیکشن کمیشن ارکان فارغ کر دئیے، انتخابی شفافیت پر نیا تنازع،امریکی صدر کا وسط مدتی...
کراچی امریکہ نے اسرائیل سے ایف 22 اسٹیلتھ طیاروں کا اسکواڈرن واپس بلا لیا۔ 12جدید لڑاکا طیارے اسرائیل سے...
اسلام آباد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 5 اگست سے ملک گیر سطح پر احتجاج اور عوام...