آسٹریلیا میں 91منزلہ ٹرمپ ٹاور منصوبہ صرف تین ماہ بعد منسوخ

14 مئی ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) آسٹریلیا میں 91منزلہ ٹرمپ ٹاور منصوبہ صرف تین ماہ بعد منسوخ، ڈویلپر کا موقف ہے کہ ٹرمپ برانڈ آسٹریلیا میں زہریلا تصور کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ اب بغیر ٹرمپ نام کے جاری رکھنے کا اعلان، ایک لاکھ 40 ہزار افراد کی پٹیشن، گولڈ کوسٹ میں لگژری ٹاور منصوبہ شدید عوامی مخالفت کے بعد ختم کیا گیا۔ آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں مجوزہ 91 منزلہ ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاورکا منصوبہ صرف تین ماہ بعد ہی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ مقامی ڈویلپر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرمپ برانڈ اب آسٹریلیا میں زہریلا (ٹاکسک) تصور کیا جانے لگا ہے۔ ڈویلپر کمپنی کے سی ای او ڈیوڈ ینگ نے کہا کہ ایران جنگ اور دیگر عالمی صورتحال کے باعث ٹرمپ برانڈ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ آسٹریلوی عوام میں غیر مقبول ہوتا جا رہا ہے۔یہ مجوزہ منصوبہ ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور گولڈ کوسٹ کے نام سے پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت 91 منزلہ عمارت میں 285 کمروں پر مشتمل لگژری ہوٹل، اعلیٰ درجے کی ریٹیل شاپنگ، ریسٹورنٹس اور رہائشی اپارٹمنٹس شامل ہونا تھے۔ یہ منصوبہ اٹلس اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے درمیان طے پایا تھا۔منصوبے کے اعلان کے بعد اسے شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور ایک آن لائن پٹیشن میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد نے اس کی مخالفت کی۔پٹیشن شروع کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ امریکہ میں امیگریشن مخالف تشدد اور سماجی تقسیم کی خبروں سے متاثر ہو کر اس منصوبے کی مخالفت کر رہی تھیں۔ اگرچہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے، ڈویلپر کا کہنا ہے کہ ٹاور کی تعمیر جاری رہے گی مگر اب اس میں ٹرمپ کا نام شامل نہیں ہوگا۔ ڈیوڈ ینگ نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ برانڈ پر تنقید غیر منصفانہ ہے۔