فوجی ضرورتیں اور حج آپریشنز ، آئل ریفائنریوں کا اربوں کے ریلیف پیکج پراتفاق

14 مئی ، 2026

اسلام آباد( خالد مصطفیٰ ) عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے پس منظر میں قومی سلامتی کی ضروریات اور حج آپریشنز کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے آئل ریفائننگ شعبے نے اربوں روپے کے ریلیف پیکیج پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک تاریخی معاہدے کے تحت ریفائنریز 30جون 2026تک پاک فوج، پاک فضائیہ اور حج پروازوں کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر رعایتی ایندھن فراہم کریں گی۔وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں نیشنل کلین مینجمنٹ کمیٹی (NCMC) کے اجلاس میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت عسکری اداروں کے ایندھن کے اخراجات کو خلیجی جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق پاک فوج اور پاک فضائیہ کو مٹی کا تیل (SKO) اور جی پی-8 جیٹ فیول ایران جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر فراہم کیا جائے گا۔یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کی فوج مغربی سرحد پر ہائی الرٹ موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اس معاہدے کے تحت حج آپریشن کو بھی بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔ ریفائنریز نے حج پروازوں کے لیے جی پی-1 ایندھن یکم مارچ 2026 کی قیمتوں پر فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ فضائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو اور ہزاروں پاکستانیوں کے لیے حج کی ادائیگی مالی طور پر قابلِ برداشت رہے۔پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق اس رعایت سے ریفائنریز کو ماہانہ تقریباً 6 سے 7 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا، جبکہ جون کے اختتام تک مجموعی مالی اثرات 10 سے 12 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔پیٹرولیم ڈویژن نے 12 مئی کو اس انتظام کو باضابطہ شکل دیتے ہوئے ایک یادداشت جاری کی، جس پر ڈائریکٹر جنرل (آئل) عمران احمد کے دستخط موجود ہیں۔ اس کی ایک نقل اس نمائندے کے پاس بھی موجود ہے۔ ہدایت نامہ سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی اور سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا سمیت اعلیٰ حکام کو ارسال کیا گیا تاکہ دفاعی اور سول ایوی ایشن شعبوں میں اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔یہ اقدام ریاست اور نجی شعبے کے درمیان غیر معمولی تعاون کی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں تجارتی مفادات پر “اعلیٰ قومی مفاد” کو ترجیح دی گئی۔صنعتی رہنماؤں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ریفائننگ سیکٹر پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔عادل خٹک منیجنگ ڈائریکٹراٹک ریفائنری لمیٹڈ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ریفائنریز نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کی درخواست پر صرف اعلیٰ قومی مفاد میں جنگ سے پہلے کی رعایتی قیمتوں پر ایندھن فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے وزیرِ پیٹرولیم کے مشاورتی انداز اور ریفائنریز کی اپگریڈیشن کے لیے ان کی حمایت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ریفائنریز کی اپگریڈیشن گزشتہ تین برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہے، جس سے ملک کو سالانہ 1 سے 1.5 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔سینئر حکام کے مطابق ریفائنریز اس سے قبل بھی اپریل میں حکومت کے حمایت یافتہ فارمولے کے تحت ڈیزل کی قیمت 41.5 ڈالر فی بیرل پر منجمد رکھنے کی وجہ سے 24 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکی ہیں۔