پاکستان ثالثی کی کوششیں تیز اور ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کرے،چین، آبی گزرگاہ کے ذریعے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل نہیں ہونے دینگے، ایران

14 مئی ، 2026

تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک )تہران نے امریکا کے خلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہےجبکہچینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ثالثی کی کوششوں کو مزید تیز کرے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات مناسب طریقے سے حل کرنے میں کردار ادا کرے‘ وانگ یی نے نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحاق ڈار سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا‘ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کو جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے‘ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیاہے کہ دھمکیوں اور زبردستی کروائے گئے سمجھوتوں سے حقیقی امن ممکن نہیںجبکہ ایرانی رکن پارلیمان کامران غضنفری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں‘ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے میں موجود فوجی اڈوں تک نہیں پہنچنے دیں گے‘ہرمز پر کنٹرول سے تیل کی آمدن دوگنی ہو سکتی ہےجبکہ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایران آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک انتظام کو طاقت کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے‘ تہران نے کویت میں پاسدارانِ انقلاب کے چار اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کردی جبکہ اٹلی نے خلیجی خطے کے قریب دوبحری جہاز تعینات کرنے کا اعلان کیاہے ‘جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے کہا ہے کہ سیول آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں بتدریج اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم وہ اس میں عسکری طور پر شامل نہیں ہو گا۔تفصیلات کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ثالثی کوششوں کو مزید تیز کرے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات مناسب طریقے سے حل کرنے میں کردار ادا کرے۔وانگ یی نے یہ بات پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی۔ اسحاق ڈار نے وانگ یی کو ایران امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں سے آگاہ کیا اور مکالمے کے فروغ میں پاکستان کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وانگ یی نے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے مدد کرنے پر پاکستان کو سراہا ۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے اپنا حصہ بھی ڈالتا رہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہرمز کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی عسکری کارروائی اور اس کے بعد جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں‘ایران ہرمز سے متعلق انتظامات کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق قواعد بنانے کے لیے مشاورت کر رہا ہے جبکہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی اصولوں کا ذکر کیا ہے۔اِن اصولوں میں جنگ کا مستقل خاتمہ‘ نقصانات کا ازالہ‘ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا‘ پابندیاں ختم کرنا اور ایران کے حقوق کا احترام کرنا شامل ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں غریب آبادی نے لکھاکہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق بحران کے خاتمے کے لیے یہ ایران کے کم سے کم مطالبات ہیں۔علاوہ ازیں تہران نے امریکا کے خلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ایران نےاپنی جوہری تنصیبات کے خلاف فوجی جارحیت‘ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کی بنیاد پر بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں بدھ کومشہدمیں ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی کا کہنا تھا کہ آج آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے‘انہوںنے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول‘ اس کی نگرانی اور خودمختادی کا تحفظ ملک میں آئل کے منافع کو دُگنا کر دے گا۔جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گاجبکہ ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری نے دعویٰ کیاہے کہ امریکا اور اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کے جنوبی علاقوں میں کچھ جزیروں پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ غضنفری کے مطابق ہم حالت جنگ میں ہیں‘گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے خلاف دو کارروائیاں کی گئیں اور ان کے بحری جہازوں نے ہمارے بعض مراکز کو نشانہ بنایا۔کویت کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے چار اراکین کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر گرفتار کرنے کے اعلان کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کویت کی سمندری حدود میں ان کا داخلہ ان کی کشتی کے نیوی گیشن نظام میں خرابی کا نتیجہ تھا۔یہ افراد معمول کے بحری گشت پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ایران پر کویت کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔اٹلی کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں مستقل جنگ بندی کے نتیجے میں کسی بین الاقوامی مشن کا حصہ بن کر دو اطالوی مائن سوئپر بحری جہاز خلیجی خطے کے قریب تعینات کر سکتا ہے۔اٹلی کے وزیردفاع گائیڈو کروزیٹو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مشن پر جانے سے پہلے ارکان پارلیمنٹ کی مظوری لی جائے گی۔بحری جہازوں کی تعیناتی سے قبل شرط یہ ہے کہ خطے میں موجودہ شکل کی جنگ بندی نہ ہو بلکہ حقیقی اور مستند جنگ بندی ہو، خلیجی خطے تک بحری جہازوں کو پہنچنے میں ہفتے لگ سکتے ہیں، اس لیے ان جہازوں کو پہلے ہی متحرک کیا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے کہا ہے کہ سیول آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں بتدریج اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم وہ اس میں عسکری طور پر شامل نہیں ہو گا۔بدھ کوواشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ مؤقف وہ پیر کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ملاقات میں بھی پیش کر چکے ہیں۔ممکنہ اقدامات میں سیاسی حمایت کا اظہار‘ عملے کی فراہمی‘ معلومات کا تبادلہ اور عسکری وسائل کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔