سولر کی نیٹ میٹرنگ میں کوئی غریب نہیں، اویس لغاری

14 مئی ، 2026

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے باوجود اسی رفتار سے درخواستیں موصول ہورہی ہیں، سولر نیٹ میٹرنگ میں کوئی غریب نہیں ہے، کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوا، پاکستان 76فیصد توانائی اپنے ذرائع سے پیدا کررہا ہے صرف 24فیصد درآمدی تیل سے بجلی بنائی جارہی ہے۔سولر صارفین کا سولر پالیسی تبدیل ہونے کے بعد بیٹری پر جانا اچھی بات ہے۔ہم سولر انرجی کو حوصلہ شکنی نہیں کررہے ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایازصادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رکن نوید قمر نیتوجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں تبدیلی اور سولر پر 18 فیصد ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ پاکستان میں سولر کا انقلاب آگیا ہے 23 سے 24 ہزار میگاواٹ سولر پاکستان میں انسٹال ہوگیا ہے 7میگاواٹ گرین میٹر پر لگاہے۔ اس کیلئے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی لوگوں نے خود سرمایہ کاری کی بجلی کی زیادہ قیمت کی وجہ سے لوگ سولر کی طرف گئے۔ جن صارفین نے پہلے نیٹ میٹرنگ کی ہوئی تھی ان کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی نئے صارفین کیلئے ہم نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ ہوگی۔ اور ایک یونٹ کے ان کو 9روپے میں خریدیں گے۔ اگر صارفین بیٹری میں سرمایہ کاری کریں گے تو یہ اچھی بات ہے۔ اگر ہم پالیسی تبدیل نہ کرتے تو عام صارفین کو سالانہ 300ارب روپے کا دباؤ پڑنا تھا اس کو روکا ہے۔ریگولیشن تبدیل ہونے کے باوجود اسی رفتار سے گرین میٹر کی درخواستیں آرہی ہیں۔ نوید قمر نے کہاکہ سولر توانائی نیایران جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے ہمیں سولر پر ٹیکس نہیں لگانا چاہیے۔ اویس لغاری نے کہاکہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو بھی مقامی کوئلے پر منتقل کررہے ہیں۔ ہم ری نیوبل انرجی کو ڈس کریج نہیں کررہے ہیں۔ میرے حلقیکے5فیڈرز پر 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے میں اس کو ختم نہیں کرسکتا کیوں کہ وہاں چوری ہورہی ہے۔