بھارت میں 4 سال بعد پٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 روپے اضافہ

16 مئی ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت میں 4 سال بعد پٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 روپے اضافہ، انڈیا میں پیٹرول 284 روپے، پاکستان میں 409.78 روپے لیٹر، بھارت میں ڈیزل 263، پاکستان میں 409.58 روپے لیٹر ہے۔ابنائے ہرمز کی بندش، بھارت نے صرف 3 فیصد اضافہ کیا، پاکستان میں 55 فیصد، بنگلہ دیش میں 16 فیصد ہوا۔ بھارت میں عوام پر صرف 3 روپے کا بوجھ، تیل کمپنیاں روزانہ 29 سے 49 ارب روپے کا نقصان اٹھا رہی ہیں۔ بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں چار سال بعدصرف تین فیصد یعنی تین روپے اضافے نے عالمی تناظر میں ایک منفرد مثال قائم کی ہے، جہاں 2022 کے بعد تین روپے اضافے کے ساتھ پیٹرول کی قیمت 284 روپے(97.77 بھارتی روپے) فی لیٹر اور ڈیزل 263 روپے(90.67 بھارتی روپے) فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔یہ 15 مئ کی دہلی کی قیمت ہے، اس کے برعکس پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 9 مئی سے 414.78 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 414.58 تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے اضافوں کے مقابلے میں بھارت میں اضافہ محض تقریباً 3 فیصد رہا، جبکہ میانمار میں 90 فی صد، ملائیشیا میں 56 فیصد، پاکستان میں 55 فیصد، متحدہ عرب امارات میں 52 فیصد ، امریکہ میں 45 فیصد ، کینیڈا میں 31 فی صد،چین میں 21 فی صد،برطانیہ میں 19 فی صد اوربنگلادیش میں 16 فی صد اضافہ ہوا جبکہ سعودی عرب میں کوئی اضافہ نہیں ہواـ یہ صورتحال بنیادی طور پر ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کا نتیجہ ہے۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خام تیل کی قیمت 100 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا اور کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس عالمی دباؤ کے باوجود مختلف ممالک نے اپنے اپنے معاشی حالات کے مطابق قیمتوں میں اضافہ کیا۔ بھارت نے اس بحران کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کے بجائے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی۔ سرکاری تیل کمپنیاں گزشتہ ایک ماہ سے روزانہ 29 ارب سے 49 ارب روپے( 1000 سے 1700 کروڑ بھارتی روپے) تک کا نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 75 روپے(26 بھارتی روپے) اور ڈیزل پر238 روپے( 82 بھارتی)روپے کا خسارہ برداشت کیا جا رہا ہے، تاہم صارفین پر صرف 3 روپے فی لیٹر کا بوجھ ڈالا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔ یاد رہے۔ بھارت میں 2017 سے روزانہ قیمت نظام نافذ ہے، جس کے تحت قیمتیں روزانہ معمولی اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلی عموماً چند پیسے یا زیادہ سے زیادہ 50 پیسے تک ہوتی ہے۔بھارت کی مختلف ریاستوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مختلف ہیں.ہر ریاست اپنی آمدنی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر الگ شرح سے VAT/سیلز ٹیکس لگاتی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بھارت اپنی 85 فیصد تیل کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے، اور اگر عالمی قیمتوں کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دیا جائے تو مہنگائی میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر حکومت نے راشننگ کے بجائے قیمتوں کو محدود رکھنے اور نقصان کو وقتی طور پر خود برداشت کرنے کی پالیسی اپنائی، تاکہ خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔دوسری جانب پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں زیادہ اضافے کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی،بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ ، پیٹرولیم لیوی میں اضافہ اورعالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں اضافہ شامل ہے جس کے نتیجے میں مجموعی اضافہ تقریباً 55 فیصد تک جا پہنچا۔