منشیات کیخلاف بڑا اقدام، 76 ہزار سے زائد آئمہ کرام اورخطیب مہم میں شامل

16 مئی ، 2026

لاہور (آصف محمود بٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صوبہ بھر کے 76 ہزار سے زائد رجسٹرڈ آئمہ کرام ا و ر خطیب حضرات کو انسدادِ منشیات مہم میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا ہے تاکہ مساجد کے منبروں کے ذریعے بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کے خلاف مؤثر سماجی شعور بیدار کیا جا سکے۔’ڈرگ فری، پُرامن پنجاب کے تحت جمعہ خطبات ، دینی اجتماعات میں منشیات کے نقصانات اجاگر کرنیکی ہدایت۔سینئر افسر کے مطابق مذہبی رہنما عوامی رائے اور بالخصوص نوجوانوں کے رویوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ’’ڈرگ فری، پُرامن پنجاب‘‘ کے عنوان سے شروع کی گئی اس آگاہی مہم کو حکومت کی اب تک کی سب سے بڑی سماجی متحرک مہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں علما، اساتذہ، نوجوانوں کی تنظیمیں، سول سوسائٹی، ماہرینِ نفسیات، طبی ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت شریک ہیں۔سینئر افسر نے "جنگ" کو بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں آئمہ مساجد کو مہم کا حصہ بنانا ایک اہم پالیسی تبدیلی ہے کیونکہ حکومت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ مذہبی رہنما عوامی رائے اور بالخصوص نوجوانوں کے رویوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔مہم کے تحت آئمہ و خطیب حضرات سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دینی اجتماعات میں منشیات کی لعنت، اس کی تباہ کاریوں اور اسمگلنگ کے خطرناک نتائج پر روشنی ڈالیں اور عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں نشہ آور اشیا کی حرمت سے آگاہ کریں۔علمائے کرام کو فراہم کردہ آگاہی مواد میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ہر اس شے کو حرام قرار دیتا ہے جو انسانی عقل کو متاثر کرے یا انسان کو تباہی کی طرف لے جائے۔ اس ضمن میں قرآن کریم کی آیت ’’اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ (سورۃ البقرہ: 195) اور حضور اکرم ؐ کا فرمان ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘ بھی شامل کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی طبقے کی شمولیت کا مقصد صوبے میں جاری انسدادِ منشیات کارروائیوں اور بحالی پروگراموں کو مزید مؤثر بنانا ہے، کیونکہ صرف پولیس کارروائیوں سے منشیات کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں، اس کیلئے پورے معاشرے کی شرکت ضروری ہے۔دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے بھی منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف قانونی و انتظامی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ 1997 اور ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت منشیات کی تیاری، خرید و فروخت، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم سنگین جرائم ہیں جن کی سزا طویل قید، بھاری جرمانے اور بعض سنگین صورتوں میں سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔محکمہ داخلہ حکام نے خبردار کیا کہ تعلیمی اداروں کے اندر یا اطراف میں منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف خصوصی سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور ایسے مجرموں کو 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں موجود تقریباً 68 ہزار قیدیوں میں سے قریب 19 ہزار ایسے ہیں جو منشیات کے استعمال یا اسمگلنگ سے متعلق مقدمات میں قید ہیں، جو مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔حکام نے بتایا کہ منشیات سے متعلق قیدیوں کیلئے حکومت نے دوہری حکمت عملی اختیار کی ہے۔