ٹرمپ چین سے بڑے نتائج کے بغیر واپس، تعلقات میں وقتی استحکام کے آثار

16 مئی ، 2026

بیجنگ(جنگ یوز) ٹرمپ چین سے بڑے نتائج کے بغیر واپس، تعلقات میں وقتی استحکام کے آثار ،ٹرمپ کاتائیوان کو اسلحہ دینے پر غیر یقینی مؤقف، صدرشی سے ایران، تائیوان و تجارت پر تفصیلی بات چیت ، کسی بڑے معاہدے کا اعلان نہ ہوسکا، بیجنگ نے تائیوان کوسرخ لکیر قرار دے کر واشنگٹن کو خبردار کردیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورۂ چین مکمل کرکے واشنگٹن واپس روانہ ہوگئے، تاہم ایران جنگ، تائیوان اور تجارت جیسے اہم تنازعات پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آسکی، البتہ دونوں ممالک کے تعلقات میں وقتی استحکام کے آثار ضرور دکھائی دیے۔ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کئی گھنٹے طویل ملاقاتوں میں ایران جنگ، آبنائے ہرمز، تائیوان، اسلحہ فروخت اور تجارتی معاملات پر گفتگو ہوئی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لیے نرم اور دوستانہ انداز بھی اپنایا۔ ٹرمپ نے واپسی پر کہا کہ امریکا اور چین نے کئی مسائل حل کیے ہیں اور دونوں کے تعلقات “بہت مضبوط” ہیں، تاہم انہوں نے کسی واضح کامیابی کی تفصیل نہیں دی۔ چینی صدر نے تائیوان کو امریکا چین تعلقات کا “سب سے اہم” مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اسے درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تصادم ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے واضح کیا کہ تائیوان کے بارے میں اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ ایران جنگ بھی ملاقاتوں پر چھائی رہی، جہاں واشنگٹن چین سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی امید رکھتا تھا، مگر بیجنگ نے اپنے پہلے سے موجود مؤقف یعنی مذاکرات، جنگ بندی اور سیاسی حل کی حمایت دہرائی۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی امداد نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ ادھر امریکا نے چین کے ساتھ زرعی مصنوعات، طیاروں اور توانائی سے متعلق ممکنہ معاہدوں کا دعویٰ کیا، لیکن بیجنگ نے ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ دورے کے دوران چین نے شاندار سفارتی استقبال، فوجی تقریب اور ژونگ نان ہائی کمپاؤنڈ کی خصوصی سیر کے ذریعے ٹرمپ کو غیرمعمولی اہمیت دی، جسے ماہرین نے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی علامت قرار دیا ہے۔