باجوڑ، کوہاٹ، مستونگ میں دہشت گردوں کے حملے، 10 اہلکار شہید، 3 حملہ آور ہلاک

16 مئی ، 2026

پشاور، باجوڑ، کوہاٹ، مستونگ (مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ جنگ، نامہ نگار) باجوڑ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 8 اہلکار شہید، 35 زخمی ہوگئے، جوابی کارروائی میں تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے، دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی عمارت سے ٹکرا دی ، کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی، ادھر کوہاٹ میں سیکورٹی فورسز اور ،فتنہ الخوارج کے درمیان جھڑپ میں فرنٹیئر کور کے ایک صوبیدار سمیت دو اہلکار شہید ہوگئے جوابی کارروائی میں 3دہشت گرد ہلاک متعدد زخمی ہوگئے، مستونگ میں مسلح افراد نے معدنیات لے جانے والے 3ٹرکوں کو نذر آتش اور قومی شاہراہ پر پل کو دھماکے سے اڑا دیا ، کوہاٹ میں 3دہشت گرد ہلاک، مستونگ میں مسلح افراد نے 3ٹرک نذر آتش اور پل اڑا دیا، جبکہ پشاورکے علاقےمتنی میں ٹارگٹ کلنگ کی مبینہ واردات میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق سرحدی ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بزدلانہ حملہ کیا جسکے نتیجے میں کم از کم 8 اہلکار شہید اور 35 زخمی ہو گئے۔ سیکورٹی حکام کے مطابق حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیا گیا جہاں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جسکے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پہلے کواڈ کاپٹر (ڈرون) کے ذریعے کیمپ کو نشانہ بنایا اور پھر خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی عمارت سے ٹکرا دی۔ زوردار دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے فوری بعد مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود سیکورٹی فورسز نے فوری اور موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو جہنم واصل کر دیا۔ عینی شاہدین اور مقامی صحافیوں کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ باجوڑ ٹاؤن کے بازاروں اور 20 کلومیٹر دور تک کے علاقوں میں اس کی گونج سنی گئی۔ حملے کے بعد علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔علاوہ ازیں مستونگ کے علاقہ درینگڑھ شیخ واصل جدید آباد میں مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر معدنیات لے جانیوالے3 ٹرکوں پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کردیا جبکہ کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ پر پل کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا جس سےپاک ایران شاہراہ پر آمدورفت معطل ہوگئی تاہم انتظامیہ نے چھوٹی گاڑیوں کے لیئے متبادل راستہ بحال کر دیا ۔ واقعہ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ ادھر قبائلی ضلع کرم میں سیکورٹی فورسز اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ اور فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ مقابلے کے دوران فرنٹیئر کور کے ایک صوبیدار سمیت دو اہلکار شہید ہوگئے۔ باخبر ذرائع کے مطابق گزشتہ شب ضلع کرم کی حدود میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ایک دہشت گرد کی لاش بھی موقع سے برآمد ہوئی۔ فائرنگ تبادلے میں ایف سی کے صوبیدار نجیب اللہ سکنہ کرک شہر اور نائیک شمیم علی سکنہ لوئر اورکزئی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن مزید سخت کردیا ہے۔