یو اے ای کا نئی آئل پائپ لائن کا منصوبہ،ہرمز کو بائی پاس کردیا جائیگا

16 مئی ، 2026

کراچی (نیوز ڈیسک) یو اے ای کا برآمدی صلاحیت دوگنا کرنے کیلئے نئی آئل پائپ لائن کا منصوبہ، ٹرمپ کا ایران کی میزائل صلاحیت برقرار رکھنے کی رپورٹس سے اختلاف، 80 فیصد خاتمے کا دعویٰ ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کے ابوظہبی میڈیا آفس نے جمعہ کے روز بتایا کہ متحدہ عرب امارات 2027 تک فجیرہ کی بندرگاہ کے ذریعے اپنی برآمدی صلاحیت کو دوگنا کرنے کے لیے ایک نئی آئل پائپ لائن کی تعمیر تیز کرے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی اس کی صلاحیت میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوگا۔ ابوظہبی میڈیا آفس نے بتایا کہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے ایک ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کو ویسٹ-ایسٹ پائپ لائن منصوبے کو تیز کرنے کی ہدایت کی، اور مزید کہا کہ پائپ لائن زیر تعمیر ہے اور اگلے سال کام شروع کرنے کی امید ہے۔ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے آبنائے ہرمز کی اپنی تعریف کو نمایاں طور پر وسیع کر دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں اُس بحری علاقے کو بھی، جس پر وہ اپنا کنٹرول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور نیوی نے 4 مئی کو ایک نقشہ جاری کیا جس میں کنٹرول کے ایک نئے علاقے کو دکھایا گیا تھا، جو متحدہ عرب امارات کے خلیجِ عمان کے ساحلی حصے کے بڑے علاقے پر مشتمل ہے۔ یہ اقدام ایڈنوک کے ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملے اور فجیرہ کے آئل زون پر شدید حملوں کے ساتھ ہی سامنے آیا، جسے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ’’ناقابلِ قبول جارحیت‘‘ اور ’’معاشی بلیک میلنگ‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ان رپورٹس سے اختلاف کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیت کو برقرار رکھا ہے، اور کہا کہ اس کا 80 فیصد ختم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کے ایک رپورٹر کو بتایا کہ ایران سے متعلق اس کی رپورٹنگ ’’غداری پر مبنی‘‘ ہے۔ منگل کے روز، آئی آر جی سی نے مزید توسیع کا اعلان کیا، جس میں آبنائے کی دوبارہ تعریف کرتے ہوئے اسے 300 میل چوڑائی تک پھیلا ہوا ایک ’’وسیع آپریشنل علاقہ‘‘ قرار دیا گیا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے تہران نے مؤثر طور پر اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے۔ اس خلل کے سبب توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بعض ممالک میں ایندھن کی راشن بندی شروع ہو گئی ہے اور مہنگائی بڑھنے کے ساتھ معاشی سست روی کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ابو ظہبی میڈیا آفس نے اس منصوبے کی اصل ٹائم لائن کو ظاہر نہیں کیا۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خلیجی خطے کے وہ واحد تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں جن کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز سے باہر خام تیل برآمد کرتی ہیں۔ عمان کی خلیج عمان پر طویل ساحلی پٹی ہے، جبکہ کویت، عراق، قطر اور بحرین اپنی ترسیلات کے لیے تقریباً مکمل طور پر اس آبی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی نئی پائپ لائن کو سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، جسے سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے ایک ’’انتہائی اہم لائف لائن‘‘ قرار دیا ہے۔ "انہوں نے کہا کہ آرامکو (2222.SE) نے آٹھ دنوں میں پائپ لائن کی صلاحیت کو بڑھا کر 7 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کر دیا، جس سے مملکت کی جنگ سے پہلے کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ رواں رہا۔