اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)ٹرمپ شی ملاقات پر آبنائے ہرمز کے خدشات غالب، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل105 ڈالر جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمتیں 109 ڈالر سے اوپر نکل گئیںاگرچہ ٹرمپ-شی سربراہی اجلاس نے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازع کی نئی لہر کے کچھ خدشات کو کم کیا، لیکن سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو حل کرنے یا بحری سیکورٹی کی ضمانتوں کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مایوس نظر آئے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی توانائی کی منڈیوں میں جمعہ کو تیزی دیکھی گئی کیونکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات ٹرمپ شی سربراہی اجلاس سے پیدا ہونے والی محدود پرامیدی پر غالب آگئے، جس نے بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر بھیج دیا اور عالمی مالیاتی بازاروں میں سرمایہ کاروں کو تذبذب اور بے چینی میں مبتلا رکھا۔ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 3.88 فیصد اضافے کے ساتھ 105.10 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ برینٹ خام تیل 3.23 فیصد بڑھ کر 109.14 ڈالر پر آ گیا، جو اس بڑھتے ہوئے خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیج کی جہاز رانی کی گزرگاہ (شپنگ کوریڈور) کے آس پاس طویل عدم استحکام عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے خام تیل کے درجات بھی مستحکم ہوئے۔ مربان خام تیل تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 107.82 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ اوپیک باسکٹ میں تقریباً 7 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جو بڑے بینچ مارکس میں سب سے مضبوط ترین اچھال میں سے ایک ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات نے بھی اس تیزی کا پیچھا کیا۔ گیسولین کے فیوچرز 2.6 فیصد آگے بڑھے، جبکہ ہیٹنگ آئل تقریباً 4 فیصد اوپر چلا گیا، جو مارکیٹ کے ان خدشات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر سپلائی کے خطرات میں شدت آئی تو ریفائنری مارجن اور نقل و حمل کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ قدرتی گیس کی منڈیوں نے قدرے غیر ہموار صورتحال پیش کی۔ امریکی قدرتی گیس کے فیوچرز میں 2.25 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپ کی ڈچ ٹی ٹی ایف قدرتی گیس میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ایشیائی ایل این جی مارکیٹوں میں بھی معمولی تیزی آئی، جہاں خلیج کے ایل این جی شپنگ روٹس کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے درمیان ایل این جی جاپان/کوریا مارکر 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 17.7 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے اوپر چلا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تیزی ایک ایسی مارکیٹ کی عکاسی کرتی ہے جس کی توجہ صرف سفارت کاری کے بجائے تیزی سے جیو پولیٹیکل خطرات پر مرکوز ہو رہی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ-شی سربراہی اجلاس نے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازع کی نئی لہر کے کچھ خدشات کو کم کیا، لیکن سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو حل کرنے یا بحری سیکورٹی کی ضمانتوں کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مایوس نظر آئے۔ توانائی کے ایک اسٹریٹجسٹ نے کہا کہ سربراہی اجلاس نے عارضی طور پر مارکیٹ کے جذبات کو مستحکم کرنے میں مدد کی، لیکن تاجر اب بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کو غیر حل شدہ دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل اپنی جیو پولیٹیکل اضافی قیمت (پریمیم) برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس سے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر کی نمایاں ایل این جی برآمدات بھی اسی راستے سے ہوتی ہیں۔خام تیل کے کچھ علاقائی درجات وسیع تر مارکیٹ کی تیزی کے برعکس تیزی سے نیچے آئے۔ یورالز میں 4 فیصد سے زیادہ اور مارسمیں 3.5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، جو پابندیوں، ریفائنریوں کی طلب میں تبدیلیوں، اور مقامی سپلائی کی صورتحال کی وجہ سے فزیکل آئل مارکیٹوں میں مسلسل تقسیم کو نمایاں کرتی ہے۔ وال اسٹریٹ پر ردعمل ملا جلا رہا۔ ایس اینڈ پی 500 نے ٹریڈنگ کے آغاز میں کچھ دیر کے لیے تقریباً 0.6 فیصد کا فائدہ حاصل کیا لیکن بعد میں یہ بڑھت برقرار نہ رہ سکی، جبکہ ناسداک کمپوزٹ نے 1 فیصد کے قریب اضافے کے ساتھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا کیونکہ سیمی کنڈکٹر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ حصص کو امریکہ اور چین کے تجارتی تعلقات مستحکم ہونے کی امیدوں سے فائدہ پہنچا۔ تاہم، توانائی کے حوالے سے حساس شعبے بشمول ایئر لائنز اور کنزیومر ڈسکریشنری کے اسٹاکس تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مندی کا شکار ہو گئے۔ دریں اثناء بھارت اور پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو مہنگائی اور توانائی کے درآمدی بلوں میں اضافے پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کی ایکویٹی مارکیٹ میں محتاط رویہ دیکھا گیا کیونکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے روپے پر دباؤ آنے اور مہنگائی کے انتظام میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ پاکستان میں، سرمایہ کاروں کو یہ تشویش لاحق تھی کہ برینٹ کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر سے اوپر رہنے کی صورت میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کی پوزیشن مزید خراب ہو سکتی ہے اور ملک کے اندر ایندھن کی مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ-شی سربراہی اجلاس کے ارد گرد سفارتی چمک دمک کے باوجود، تاجروں نے تیزی سے اس میٹنگ کو آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے فوری توانائی کی سیکورٹی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے نا کافی سمجھا۔ توانائی کے ایک تجزیہ کار نے کہا کہ سربراہی اجلاس نے تجارتی جنگ کے کچھ خدشات کو تو کم کیا، لیکن اس نے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جس کی مارکیٹوں کو اس وقت سب سے زیادہ فکر ہے — یعنی آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل۔
کوئٹہبلوچستان میں مشترکہ آپریشن، مزید 5 دہشت گرد ہلاک،تفصیلات کے مطابق پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور ...
اسلام آباد آڈٹ انکشافات: محکمہ ڈاک میں 63 ارب روپے کا بڑا مالیاتی تضاد سامنے آ گیا، بینک اکاؤنٹس کے غیر...
اسلام آباد آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی کی اطلاعات پر خلیج میں کشیدگی، عالمی مارکیٹس شدید...
اسلام آباد 75 ارب کے ترقیاتی فنڈز کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں، آڈٹ نے شفافیت پر سوالات اٹھا دیے۔ کابینہ...
کراچی قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے بعد ایل این جی کنکشن پر پابندی اٹھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ ایل این جی...
اسلام آ باد وزیراعظم شہباز شریف پیر کے روز ایک روزہ دورہء قطر پر دوحہ پہنچے اور ریاستِ قطر کے امیر شیخ تمیم...
اسلام آباد مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل، شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے پیر کے روز وزیراعظم ہاؤس...
کراچی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت...