توانائی شعبےکا سرکلرڈیٹ5 ہزار 206 ارب روپے پر پہنچ گیا

16 مئی ، 2026

اسلام آباد (عاطف شیرازی) پاکستان کےتوانائی شعبےکا سرکلرڈیٹ پانچ ہزاردوسوچھ ارب روپےپر پہنچ گیا،اس میں گیس شعبےکا تین ہزار چارسو بیالیس ارب روپےاور بجلی شعبےکے سرکلر ڈیٹ کا حصہ ایک ہزار سات سو چونسٹھ ارب روپے بنتاہے،آئی ایم ایف نےتازہ رپورٹ میں پاکستان کے توانائی شعبےکے سرکلرڈیٹ کی تفصیلات جاری کردی. آئی ایم ایف کی رپورٹ کےمطابق سال 2026 کے اوائل تک بجلی اورگیس کو ملاکر توانائی شعبے کا سرکلرڈیٹ 5 ہزار 206 ارب روپے پر پہنچ گیا، پاکستان کا توانائی کا شعبہ مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے،حکومت ٹیرف میں اصلاحات اور سبسڈی کے نظام کو معقول بنانے کے اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت باقاعدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، غیر ٹارگٹڈ سبسڈیز مرحلہ وار ختم کرنے اور بجلی کے شعبے میں جمع شدہ قرضے کو سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے واجبات میں تبدیل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ اصل قرض کی ادائیگی کے لیے بجلی صارفین پر اضافی سرچارج عائد کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں،آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان اصلاحات کا مقصد مالیاتی استحکام بحال کرنا ہےتاہم اس سے قلیل مدتی طور پر عوام کے لیے استطاعت کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں ،مستقبل کے تناظر میں بجلی کے نرخوں کی سالانہ ری بیسنگ، گیس ٹیرف میں ششماہی تبدیلیوں سےقیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے بشرطیکہ اصلاحات مستقل اور قابل پیش گوئی انداز میں نافذ کیے جائیں،آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کمزورصارفین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات مزید بہتر بنانے ہوں گے۔