ملک بھر میں بیروزگاری کی شرح 7 فیصد سے بڑھ گئی، سینٹ میں تفصیلات پیش

16 مئی ، 2026

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے، خبر نگار) ملک بھر میں بیروزگاری کی شرح 7 فیصد سے بڑھ گئی۔ گذشتہ مالی سال کے دوران 59 لاکھ نوجوان بے روزگار تھے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں تفصیلات پیش کی گئیں۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران محکمہ شماریات کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2024-25 میں 59 لاکھ پاکستانی بیروزگار تھے جن میں مزید اضافہ ہوا ، اوور سیز پاکستان لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں 7 فیصد سے زائد بیروزگاری ہے۔ وزارت کے مطابق اس وقت عمان، مالدیپ، قطر اور جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں 1 لاکھ 40 ہزار 688 آسامیوں پر تقرری طلب کی گئی ہے جن میں 1 لاکھ 33ہزار سے زائد اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز جبکہ 6 ہزار سے زائد اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کی جانب سے دی گئی ہے۔ ادھر وزارت مواصلات نے ایوان بالا کو بتایا کہ گذشتہ دوسالوں کے دوران موٹر ویز سے 71 ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوئی ، وزارت مواصلات کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ سال 2024 سے مارچ 2026 تک موٹرویز سے 71 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی ہوئی ہے جس میں 85 فیصد رقم ایم ٹیگ سے وصول ہوئی ، دریں اثنا سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سٹاف کو تنخواہیں فراہم کی جا رہی ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی مشکلات کے پیش نظر مزید گرانٹ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اجلاس کے دوران اراکین نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر بحث کرنے سمیت پختونوں کو کراچی میں درپیش مسائل کو حل کرنے اور وفاقی دارالحکومت میں کچی آبادیوں کی بے دخلی روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اجلاس میں عوامی مسائل پر بات کرتے ہوئے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ دو روز قبل کراچی میں پشتونوں کے حوالے سے ایک مسئلہ ایوان میں بیان کیا تھا اور یہ گزارش کی تھی کہ اس مسئلے کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے حوالے سے کارروائیاں چل رہی ہیں اور جس طرح بری امام میں گھروں کو گرایا گیا وہ تاریخ ساز ہے۔ وزیر داخلہ تو حسینیت کے علمبردار ہیں مگر وہ یزیدیت پر عمل پیرا ہیں،محسن نقوی سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ اپنے دل سے یزدیت نکال دیں تو تب ہی آپ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمشا کالونی کے خلاف پہلے بھی ایک سازش ہوئی تھی اور وہاں پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا مگر اس سازش کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو علاج و معالجہ کیلئے ہسپتالوں کو کیوں منتقل نہیں کیا جا رہا؟ ۔ سینیٹر مشال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ صوبہ پاکستان کا حصہ نہیں ،صوبے میں اس وقت آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ بنوں میں خود کش حملہ ہوا ہم نے زبردستی دعا کرائی اور کوئی بحث نہیں ہوئی۔ باجوڑ میں کل رات جو ہوا اس پر اس ایوان میں دعا تک نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو بھی اس ملک کی اکائی سمجھیں اور اس کے دکھ اور درد میں شامل ہوں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان میں تین دن لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھٹیاں ہوتی ہیں جبکہ ایران اور اسرائیل سمیت کسی بھی ملک میں چھٹیاں نہیں ہیں۔ اب عدالتوں میں بھی تین دن چھٹیاں ہو گئی ہیں، میری تجویز ہے کہ تین دن کی چھٹیاں ہو گئی ہیں تو مزید چار دن بھی چھٹیاں کر دیں۔ سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا اور عوام سے اربوں روپے وصول کر رہی ہے مگر ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ حکومت نے کیا فائدہ حاصل کیا ۔ سینیٹر روبینہ ناز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ناحق جیل میں ڈالا گیا، ہم اس ایوان میں اس کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں سے خیبر پختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے، موجودہ حکومت گذشتہ 35 سالوں سے براجمان ہے، انہوں نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کا بم گرایا ایک بار ایٹم بم بھی گرا دے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سینیٹر خرم ذیشان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ بعد میں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔