خلیج جنگ میں ہمارا کردار نہیں،امارات،ایرانی بیان مسترد

16 مئی ، 2026

دبئی (اے ایف پی) متحدہ عرب امارات نے ایرانی دعوئوں کو مسترد کردیا ہے، اور کہا ہے کہ خلیج جنگ میں ہمارا کردار نہیں جمعہ کے روز "ایرانی حملوں کو جواز فراہم کرنے کی کوششوں" کو مسترد کر دیا گیا،وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، وزیر مملکت خلیفہ بن شاہین المرر نے "متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کو جواز فراہم کرنے کی کوششوں اور ایرانی دعووں کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے واضح طور پر مسترد کرنے کی توثیق کی۔ "یہ بیان جمعرات کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس (BRICS) کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا تھا: "متحدہ عرب امارات اس جارحیت میں ایک سرگرم شراکت دار ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔"ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، عراقچی نے کہا کہ انہوں نے "متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مشورہ دیا ہے کہ صیہونی حکومت (اسرائیل) اور امریکا ان کی سیکورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے" اور یہ کہ ابوظہبی اپنی سرزمین پر "امریکی اڈوں کی موجودگی کے نتائج دیکھ چکا ہے"۔متحدہ عرب امارات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے "بار بار اور بلا جواز ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے"، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے تقریباً 3,000 حملے شامل ہیں۔بیان کے مطابق المرر نے کہا، "متحدہ عرب امارات کسی بھی خطرے، دعوے یا معاندانہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔"انہوں نے مزید کہا، "متحدہ عرب امارات کسی سے تحفظ کا خواہاں نہیں ہے اور وہ جارحیت کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے شہریوں، رہائشیوں اور مہمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔"