اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کو جمعہ کے روز تین دنوں کے اندر قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا اپنا دوسرا کارگو موصول ہوا ہے، کیونکہ حکومت نے امریکہ-اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع سے پیدا ہونے والے علاقائی سپلائی کے تعطل کے درمیان بجلی کی بڑھتی ہوئی قلت سے بچنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تقریباً 160000 کیوبک میٹر ایل این جی لے جانے والا ایل این جی بردار جہاز ’’محزم‘‘ ، پورٹ قاسم، کراچی میں پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ کے ٹرمینل-1 پر لنگر انداز ہو گیا۔ اس سے قبل 13 مئی کو، کیو-فلیکس ایل این جی بردار جہاز ’’الخریطیات‘‘ اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ دونوں ٹرمینلز نے ری گیسی فکیشن کے آپریشنز شروع کر دیے ہیں اور بجلی کی پیداوار اور صنعتی طلب کو پورا کرنے کے لیے آر ایل این جی کو قومی ترسیلی نظام میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ دونوں کارگو برینٹ خام تیل کے 13.37 فیصد کے مساوی ٹرم پرائس پر حاصل کیے گئے، جس سے پاکستان کو ایسے وقت میں ریلیف ملا ہے جب بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور سپلائی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ ایل این جی کی قیمتیں 17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کر چکی ہیں۔ حکومت اب قطر کے حکام کے ساتھ دو اضافی ایل این جی کارگو حاصل کرنے کے لیے رابطے میں ہے، کیونکہ اس سال کے شروع میں ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل کی فوجی کارروائی سے جڑے تعطل کے باعث پاکستان آنے والی چار شپمنٹس پھنس گئی تھیں۔ حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو تنازع شروع ہونے کے بعد خلیجی خطے میں لوڈ کیے گئے 8 سے 9 ایل این جی کارگو پھنس جانے کی وجہ سے متاثر ہونے والے متعدد ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستانی حکام تب سے خاص طور پر ان چار کارگوز کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو بنیادی طور پر ملک کے لیے مختص تھے۔ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی تازہ سپلائی کی آمد سے پاور سیکٹر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر گرمیوں میں طلب کے عروج کے گھنٹوں کے دوران جب روایتی طور پر بجلی کی قلت شدت اختیار کر جاتی ہے۔ لائن پیک کے موجودہ ڈیٹا کے مطابق، پاور سیکٹر بجلی کی پیداوار کے لیے تقریباً 310 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایل این جی کے دونوں ٹرمینلز اب مکمل طور پر فعال ہیں۔ دریں اثناء پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے قطر کے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات کی تاکہ جون کے دوران پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے مقصد سے اضافی ایل این جی کی درآمدات کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ایل این جی کی یہ تازہ آمد پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک ایسے اہم موڑ پر ہوئی ہے، جسے آئی ایم ایف نے حال ہی میں بجلی کے شعبے میں آپریشنل بہتری کے باوجود ساختی طور پر کمزور قرار دیا ہے۔ فنڈ نے خبردار کیا کہ پاکستان کے گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھ کر 3.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ ایل این جی کی خریداری میں عدم مطابقت، مقامی طلب میں کمی، اور مالیاتی لاگت میں اضافہ ہے، جو توانائی کے نظام پر بڑھتا ہوا مالی دباؤ پیدا کر رہے ہیں۔
راولپنڈی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نےافواجِ پاکستان کیخلاف بیان پر مولانا فضل الرحمٰن سے معافی کا...
اسلام آباد وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر...
مظفرآبادچیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر غلام مصطفی مغل نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں الیکشن بروقت ہوں گے، تمام...
اسلام آباد کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے ،مولانا فضل الرحمن نے اپنا مقدمہ...
دبئی پاکستان کے سفارت خانے ابوظبی نے اعلان کیا ہے کہ 20جولائی 2026 سے تکنیکی اور انتظامی وجوہات کے باعث ای...
اسلام آباد پاکستان کے لیے اطالوی تعلیمی گرانٹ؛ یونیسکو 300 ملین روپے کا فنڈ مقررہ مدت میں خرچ نہ کر سکا،...
کراچی عرب میڈیا نے اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای...
اسلام آباد جے یو آئی کا وکلا کنونشن جاری، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اظہارِ لاتعلقی،اسلام...