28ویں ترمیم میں بنیادی مسائل ہونگے، ووٹرکی عمربڑھانے کی تجویز زیرغورہے، رانا ثناء

17 مئی ، 2026

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جن مسائل پر اٹھائیسویں ترمیم آسکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے، افواج پاکستان سے متعلق اس میں کوئی شق نہیں ہے، آئینی عہدوں سے متعلق کچھ لوگ ہیں جو صدارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے لئے بہتر ہے ۔ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر الیکشن لڑنے سے متعلق جب آپ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم عمر پچیس سال ہونی چاہئے تو ووٹر دینا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارتی ہم سے ناراض نہیں بلاول بھٹونے درست کہا ہے کہ ان کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ستائیس ترامیم ہوچکی ہیں اب جو بھی ترمیم ہوگی وہ اٹھائیسویں ہی ہوگی اس پر تو کوئی بحث نہیں ہے اور انتظار بھی اٹھائیسویں ہی کا ہے البتہ جن مسائل پر یہ ترمیم آسکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے یہ ضرور ممکن ہے کہ میں اُس سے متعلق جس طرح سوچ رہا ہوں کوئی دوسرا نہیں سوچ رہا ہو اور اس لئے اس پر بات ہوتی رہتی ہے۔ این ایف سی، آبادی ، پانی کے ترسیل کے مسائل اور کئی معاملات زیر غور رہتے ہیں اور ان پر مختلف زاویوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے اور ان تمام چیزوں میں کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں ہے کہ اگر اتفاق رائے پیدا ہوجائے تو اس کو بغیر ترمیم بنائے عملدرآمد ممکن نہیں ہے اور جب بھی جس پر بھی اتفاق رائے ہوگا تو مطلب یہی ہوگا کہ اٹھائیسویں ترمیم ہی آئے گی اور یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض چیزوں پر جلد فیصلہ لینا ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ تاہم یہ طریقہ کار درست نہیں ہے کہ حکومت ایک ڈرافٹ تیار کر کے اور پھر ایک موقف اختیار کرتے ہوئے اس کو ڈیسکشن کے لئے پیش کرے دوسری طرف سے مخالفت شروع ہوجائے اس کے لئے ضروری ہے کم سے کم اپنے اتحادیوں کے ساتھ پہلے اعتماد کی فضاء قائم ہونی چاہئے اور وہی ہم کوشش کر رہے ہیں ان میٹنگ کو پبلک کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ کسی چیز پر اتفاق ہوجاتا ہے تو مسودہ بعد میں تیار ہوجائے گا۔ بلاول بھٹونے درست کہا ہے کہ ان کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کی بھی تجویز موجود ہے اور ہم سمجھتے ہیں یہ مناسب ہے۔ ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر الیکشن لڑنے سے متعلق جب آپ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم عمر پچیس سال ہونی چاہئے تو ووٹر دینا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ یہ باتیں زیر غور ہیں اس کے بہت سے لوگ حامی بھی ہیں یقینا مخالف بھی ہوں گے البتہ فیصلہ تو اتفاق رائے کے ساتھ ہی ہوگا۔ افواج پاکستان سے متعلق اس میں کوئی شق نہیں ہے آئینی عہدوں سے متعلق کچھ لوگ ہیں جو صدارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے لئے بہتر ہے ۔ پیپلز پارٹی ہم سے بالکل ناراض نہیں ہے بلاول بھٹو بھرپور انداز میں ہمیں سپورٹ کرتے ہیں۔ ابھی ہم اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں ہمارے اتفاق رائے ہوگا تو ہم اپوزیشن سے بات کریں گے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ امریکہ و ایران کے درمیان پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے اور وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ تینوں سطح پر کاوشیں چل رہی ہیں کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے اُمید ہے یہ معاملہ اللہ پاکستان کے ذریعے سے پوری دنیا سمیت مسلم اُمہ میں امن لائے گا۔