صدر صرافہ بازار میں ایف آئی اے اہلکاروں کا تاجروں پر تشدد،ڈی جی کا نوٹس

17 مئی ، 2026

کراچی( مطلوب حسین) صدر صرافہ بازار میں واقع جیولری شاپ میں ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران ایف اے اہلکاروں کی جانب سے تاجروں پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی ،ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئےواقعے کی رپورٹ طلب کرلی،ایس ایچ او ایف آئی اے اے سی سی کراچی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ تاجروں پر تشدد کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا،تفصیلات کے مطابق ایف آئی ا ے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے گزشتہ دنوںصرافہ بازار میں واقع جیولری شاپ میں چھاپہ مار کارروائی کی گئی تھی ،ایف آئی اے کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ کارروائی چاندی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کی گئی تھی ،تاہم ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران اہلکاروں کی جانب سے تاجر وں کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ،ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایف آئی کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملوث اہلکار دکان میں موجود افراد سے انکا موبائل فون لینے کے بعد پوچھ گچھ کرتے ہوئے تاجروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جس پر دکان میں موجود تاجر ایف آئی اے اہلکار وں کی جانب سے تشدد کے واقعے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اور ایک دکاندار باہر جاکر صرافہ بازار کے تاجروں کو جمع کرتا ،تاجروں کی جانب سے ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران تاجروں پر تشدد کے خلاف شدید احتجاج کیا جاتا ہے ،کارروائی سے متعلق ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ صرافہ بازار میں کارروائی کے دوران بنائی گئی ویڈیوگمراہ کن اور ایڈٹ شدہ ہے ،یف آئی اے نے خفیہ اور مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر چاندی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی تھی ،کارروائی کے دوران بعض عناصر نے ہجوم اکٹھا کر کے صورتحال خراب کرنے اور قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی،ریکارڈ کے مطابق دکان میں 178 کلو چاندی موجود ہونا ظاہر کیا گیا تھا، تاہم موقع پر صرف 15 کلو مقامی برانڈڈ چاندی برآمد ہوئی،163 کلو چاندی کی کمی اسمگل شدہ چاندی کو مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کے دوران غائب کئے جانے کی نشاندہی کرتی ہے،ملزمان اور سہولت کاروں کے خلاف اسمگلنگ، سرکاری کارروائی میں مداخلت اور ہجوم اکسانے کے الزامات کے تحت انکوائری شروع کر دی گئی ہے،تاجروں پر ایف آئی اے حکام کے تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پرڈائریکٹر جنرل ایف ائی اے ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئےڈائریکٹر کراچی زون کو واقعہ کی مکمل انکوائری کے احکامات جاری کر تے ہوئے ہدایت کی ہے کہ واقعہ کے تمام تر پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر 48 گھنٹوں کے اندر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔چھاپے کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات، قانونی تقاضوں، متعلقہ شواہد اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے،ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے صرافہ بازار کارروائی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او ایف آئی اے اے سی سی کراچی کو فوری طور پر معطل کر تے ہوئےڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، غیر قانونی سرگرمیوں یا کسی بھی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا،قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی،ایف آئی اے قانون کی بالادستی، شفافیت اور شہریوں کے اعتماد کے تحفظ کے لئے اپنے فرائض ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری رکھے گی۔