اسلام آباد( نیوز رپورٹر/نمائندہ صوصی ) صدر آصف علی زرداری اوروزیر اعظم محمد شہباز شریف نےکامسئلہ فلسطین کے منصفانہ پائیدار حل کیلئےمشترکہ کوششوں کا عزم کا اظہا رکیا ہے،ہفتہ کے روز عالمی یوم نکبہ کے موقع پر اپنے پیغام میں دونوں شخصیات نے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم، قبضے اور تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور وقار کی منصفانہ جدوجہد کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں، یہ دن 1948 کے ان المناک واقعات کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل ہوئے اور انہیں طویل عرصے تک مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، صدر زرداری نے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے نکبہ محض تاریخ کا ایک بند باب نہیں بلکہ ایک مسلسل حقیقت ہے، جو قبضے، بے دخلی، محرومی اور بنیادی حقوق سے انکار کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر ان کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے۔پاکستان کا مؤقف انصاف، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج نکبہ کی 78ویں برسی کے موقع پر ہم 1948 سے فلسطینی عوام کی اپنے وطن سے بے دخلی، محرومی اور انکی مسلسل مشکلات کو یاد کررہے ہیں۔ اس غمگین موقع پر پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم، قبضے اور تشدد کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔پاکستان غزہ میں فوری، غیر مشروط اور پائیدار جنگ بندی، فلسطینی عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل کے اقدامات کے احتساب کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔پا کستان ایک قابلِ عمل، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گاجو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو ۔