جناح میڈیکل کمپلیکس پراجیکٹ بیورو کریسی کے روایتی سرخ فیتے کی نذر

17 مئی ، 2026

اسلام آ باد (رانا غلام قادر ) 212 ارب روپے مالیت کا جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر (JMC) اسلام آ بادپراجیکٹ بیورو کریسی کےروا یتی سرخ فیتے کی نذر ہوگیا، فیز ون میں 1400بیڈ کے ہسپتال کی تعمیر کیلئے فر موں کی پری کوالی فیکیشن کا پراسیس منسوخ کیا گیا ،جناح میڈیکل کنسٹرکشن کمپنی نے 18جون تک ٹینڈرز طلب کرلئے،وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کا نوٹس لیں ۔ پہلے سی ڈی اے نے سیکٹر ایچ سولہ میں75ایکٹر اراضی الاٹ کرکے بعد میں زمین کی کلیر نس نہ ہونے کا جواز بنا کر لوکیشن تبدیل کردی اور سیکٹر ایچ الیون ٹو میں نئی سائٹ الاٹ کی اب پراجیکٹ کیلئے تعمیراتی فرموں کی پری کوالی فیکیشن کا مکمل کیا گیا پراسیس بغیر کسی وجہ کے منسوخ کرکے نئے سرے سے ٹینڈرز طلب کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ فلیگ شپ پراجیکٹ تاخیر اور تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ بغیر کسی واضح جواز کے سابقہ پری کوالیفکیشن کی اچانک منسوخی اور نیا ٹینڈر جاری کیے جانے پر پروکیورمنٹ کے عمل کی شفا فیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کا نوٹس لیں کہ وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے آگے بڑھنے والے منصوبہ میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطا بق وزیر اعظم شہباز شریف نے سیکٹر ایچ سولہ میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سنٹر کی تعمیر کی منظوری دی ۔ اس پراجیکٹ کا ٹاسک سی ڈی اے کو دیاگیا۔ قاضی عمر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ فیز ون میں ہسپتال تعمیر ہونا ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے فیز میں میڈیکل یو نیو رسٹی ۔ ہاسٹل ۔ ریسرچ سنٹر اور نرسنگ یو نیورسٹی تعمیر کی جا ئے گی ۔سی ڈی اے نے فیز ون میں 1400بیڈ کےہسپتال کی تعمیر کے 70ارب روپے کے تعمیراتی کام کیلئے تعمیراتی فر موں سے پری کو الی فیکیشن کیلئے درخواستیں طلب کیں۔نو فرموں نے اپلائی کیا جس میں سے چار فر موں کو پری کوالی فائی کیا گیا۔ ان چار فرموں میں CRBC-SXCIG-CSADI-ZKB-AFI-ESSIAAR، AHW-MCC-IPPR، SCEGC-MAAKSONS-EA Consulting اور MATRACON-YCEG-TJUPDI-DESIGNMEN شامل تھے۔سی ڈی اے نے اب ان فرموں سے ٹینڈرز طلب کرنے تھے۔جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کو ای پی سی موڈ کے تحت تعمیر کیا جانا تھا۔۔ ان کمپنیوں کو مالیاتی تجاویز جمع کرانے کے لیے حتمی ٹینڈر دستاویزات جاری کیے جانے کی تیاریاں مکمل تھیں تاہم اچانک بغیر کسی جواز کے سابقہ پری کوالیفکیشن منسوخ کر دی گئی ۔یہ پراجیکٹ اب جناح میڈیکل کنسٹرکشن کمپنی نے سی ڈی اے سے لے لیا ۔ کمپنی کے چیف پروکیو رمنٹ افسر نے پراجیکٹ ڈائریکٹر قاضی عمرکو لکھےگئے مراسلہ میں کہا ہے کہ تعمیراتی فر موں کی پری کوالی فیکیشن کا پراسیس منسوخ کردیں۔ اب چیف پروکیو رمنٹ افسر نے ٹینڈر پراسیس دو بارہ شروع کردیا ہے۔ اب پری کوا لی فیکیشن پراسیس کو ڈراپ کرکے تعمیراتی فر موں سے 18جون تکاوپن ٹینڈرز طلب کئے گئے ہیں۔ تین جون کو پری بڈ میٹنگ بلائی گئی ہے۔چونکہ یہ پراجیکٹ ای پی سی موڈ پر ہے اسلئے 70ارب روپے کے پراجیکٹ کیلئے ڈیزائن اور بڈ کی تیاری کیلئے ایک ماہ کی قلیل مدت دینا بھی حیران کن بات ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال جو اس پراجیکٹ کی سٹیر نگ کمیٹی کے چیئر مین ہیں ۔ پری کوالی فیکیشن پراسیس کی منظوری دے چکے ہیں۔ منصوبے کا ماسٹر پلان اور پی سی ٹو منظور ہو چکا ہے جبکہ آغا خان یونیورسٹی کے کنسلٹنٹس کو سی ڈی اے کے تعاون سے تفصیلی ڈیزائن اور تعمیراتی نگرانی کے لیے مقامی کنسلٹنٹس کے انتخاب میں معاونت کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ وزیر اعظم کو بھی پریزنٹیشن دی گئی تھی جس میں ٹینڈر اور تعمیر کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن دی گئی تھی ۔وزیر اعظم اس پراجیکٹ کو تعطل کا شکار کرنے کا نوٹس لیں اور ذمہ داری کا تعین کرائیں۔