کوئٹہ میں بیشترپٹرول پمپس بند، اسکول وینز اورنجی گاڑیاں کھڑی ہوگئیں، سڑکوں پرٹریفک، تعلیمی اداروں میں حاضری کم

03 جون ، 2026

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر )صوبائی دارالحکومت میں بیشتر پاکستانی اور ایرانی پٹرول پمپس بند ہو جانے سے سیکڑوں اسکول وینز اور نجی گاڑیاں کھڑی ہو جانے سے سڑکوں پر ٹریفک اور تعلیمی اداروں میں حاضری کم ہو گئی ۔ شہر بھر میں اکثر پٹرول پمپس بند ہیں اور اگر چند ایک کھلے بھی ہیں تو ان پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہونے شہر کے بعض رجسٹرڈ پٹرول پمپس بھی پٹرول کو ہائی اوکٹین کا نام دے کر شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔پٹرول بحران کی خبروں پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹرڈپٹرول پمپس کی بندش برداشت نہیں کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ جن پمپس سے سپلائی جاری ہے وہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ دستیاب پٹرول بھی ہائی اوکٹین کے نام پر مہنگے داموں فروخت کیے جانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی اور موثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایندھن کی قلت سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے اور والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیوں کے لیےپٹرول دستیاب نہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پٹرول کو پاکستانی پٹرول ظاہر کرکے فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی، بند پٹرول پمپ کھلوائے جائیں اور شہریوں کو بلا تعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پیٹرول بحران کی خبروں پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کا سخت نوٹس، ہنگامی اجلاس طلب کر لیا تمام پمپوں کو سپلائی جار ی رکھنے کی ہدایت اجلاس میں آئل کمپنیوں اور انتظامیہ کی شرکت، سپلائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ کسی بھی رجسٹرڈپٹرول پمپ کی بندش برداشت نہیں کی جائے گی، سخت کارروائی کا عندیہ شہر میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، تمام پٹرول پمپس کی مسلسل مانیٹرنگ شروع شہری شکایات کیلئے کنٹرول روم نمبر 9202268 جاری کر دیا گیا مصنوعی بحران اور ذخیرہ اندوزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی، ڈی سی کوئٹہ کی واضح ہدایت پرپٹرول پمپ کو 5 ہزار لیٹر تک سپلائی جاری، ضلعی انتظامیہ کی مسلسل نگرانیاسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں موجود رہنے اور مکمل مانیٹرنگ کی ہدایت جاری۔