اسلام آباد (مہتاب حیدر/رانا غلام قادر/تنویر ہاشمی)صوبے اور آئی ایم ایف راضی نہ ہوسکے جسکی وجہ سے وفاقی بجٹ تاخیرکا شکار ، صوبوں کو راضی کرنے اور آئی ایم ایف سے نمبرز طے کرنے میں ناکامی تاخیر کی وجہ قرار، قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا، اب وفاقی بجٹ 10 یا 12 جون تک پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاق دفاع اور قومی سلامتی کیلئے صوبوں سے مالی تعاون کا خواہاں ہے، جبکہ صوبے ترقیاتی فنڈز کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے پر راضی نہیں، آئی ایم ایف نے بھی ٹیکس وصولی کم کرنے سے صاف انکار کردیا ، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو ہر صورت مالی سال 27-2026 میں 15264 ارب روپے ہی جمع کرنے ہونگے، جسکی وجہ سے بجٹ سازوں کو چیلنج کا سامنا ہے، صوبوں کو کچھ ذمہ داریاں لینے اور اپنےوسائل وفاق کی ضروریات کے حق میں منتقل کرنے پر راضی کرنے کی کوششیںکی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 3 جون (آج) کو ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے باعث، مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کا اعلان تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ اس تاخیر کی بنیادی طور پر دو بڑی وجوہات ہیں؛ پہلی وجہ صوبوں کو اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کے لیے مختص بڑی رقوم کو قومی ترجیحات کے ہم آہنگ کریں، اور دوسری وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بجٹ کے حتمی اعداد و شمار طے کرنے میں ناکامی ہے۔ اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والا بجٹ 10 یا 12 جون 2026 تک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا، تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے حصے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اور اس میں کوئی بھی تبدیلی کیے بغیر، وفاق کی یہ خواہش ہے کہ صوبوں کو دفاع اور قومی سلامتی کیلئے رضاکارانہ طور پر مالی تعاون کرنے پر راضی کیا جائے۔ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 3.138 ٹریلین روپے تجویز کیا گیا ہے، جس میں 1.41 ٹریلین روپے کے مجوزہ بجٹ کے ساتھ پنجاب سرِفہرست ہے۔ دوسری جانب وفاقی ترقیاتی بجٹ کو 1.126 ٹریلین روپے تک محدود رکھا گیا ہے، جسکے بعد یہ اندرونی بحث چھڑ گئی ہے کہ صوبوں کو کس طرح کچھ ذمہ داریاں لینے اور اپنے وسائل وفاق کی ضروریات کے حق میں منتقل کرنے پر راضی کیا جائے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف اب تک ٹیکس وصولیوں کے اقدامات اور اخراجات میں کمی لانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں، تاکہ آنے والے بجٹ میں مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا جا سکے، جوکہ 2.9 ٹریلین روپے کے برابر بنتا ہے۔ آئی ایم ایف نے آنے والے مالیاتی بجٹ 27-2026 کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے ہدف کو کم کرنے سے اب تک صاف انکار کر دیا ہے، جو کہ اگلے مالی سال کے لئے 15264 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
اسلام آباد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جی-7 اجلاس کے بعد دیے گئے بیانات کے اثرات کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں...
اسلام آباد حکومت نے ملک بھر میں بجلی کے بلوں کا فارمیٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صارفین کے لیے انہیں...
کراچی امریکہ کا بڑا اسٹریٹجک یوٹر، انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل، بھارت کی اہمیت میں کمی؟ امریکی فوجی...
لاہور پنجاب بجٹ : امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے اربوں روپے مختص۔فرانزک سسٹم، چیک پوسٹس اور اے...
کراچی فارن پالیسی میگزین کا کہنا ہے ایران جنگ میں کوئی فاتح نہیں، سب ہار گئے، امریکہ اور اسرائیل کی عسکری...
اسلام آبادحکومت کا ارادہ ہے کہ وہ آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 23.378 ارب ڈالر کا قرضہ لے گی مالی سال 2026-27...
دبئی اسرائیلی جاسوسوں کو چکما، پاکستانی حکمت عملی کامیاب،ہاتھوں سے لکھے خطوط نے امریکا ایران معاہدہ محفوظ...
کراچی پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لئےفضائی پابندی میں مزید توسیع کر دی۔