صوبے اور IMF راضی نہ ہوسکے، بجٹ میں تاخیر

03 جون ، 2026

اسلام آباد (مہتاب حیدر)صوبے اور آئی ایم ایف راضی نہ ہوسکے جسکی وجہ سے وفاقی بجٹ تاخیرکا شکار ، صوبوں کو راضی کرنے اور آئی ایم ایف سے نمبرز طے کرنے میں ناکامی تاخیر کی وجہ قرار، قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا، اب وفاقی بجٹ 10 یا 12 جون تک پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاق دفاع اور قومی سلامتی کیلئے صوبوں سے مالی تعاون کا خواہاں ہے، جبکہ صوبے ترقیاتی فنڈز کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے پر راضی نہیں، آئی ایم ایف نے بھی ٹیکس وصولی کم کرنے سے صاف انکار کردیا ، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو ہر صورت مالی سال 27-2026 میں 15264 ارب روپے ہی جمع کرنے ہونگے، جسکی وجہ سے بجٹ سازوں کو چیلنج کا سامنا ہے، صوبوں کو کچھ ذمہ داریاں لینے اور اپنےوسائل وفاق کی ضروریات کے حق میں منتقل کرنے پر راضی کرنے کی کوششیںکی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 3 جون (آج) کو ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے باعث، مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کا اعلان تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ اس تاخیر کی بنیادی طور پر دو بڑی وجوہات ہیں؛ پہلی وجہ صوبوں کو اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کے لیے مختص بڑی رقوم کو قومی ترجیحات کے ہم آہنگ کریں، اور دوسری وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بجٹ کے حتمی اعداد و شمار طے کرنے میں ناکامی ہے۔ اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والا بجٹ 10 یا 12 جون 2026 تک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا، تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے حصے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اور اس میں کوئی بھی تبدیلی کیے بغیر، وفاق کی یہ خواہش ہے کہ صوبوں کو دفاع اور قومی سلامتی کیلئے رضاکارانہ طور پر مالی تعاون کرنے پر راضی کیا جائے۔ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 3.138 ٹریلین روپے تجویز کیا گیا ہے، جس میں 1.41 ٹریلین روپے کے مجوزہ بجٹ کے ساتھ پنجاب سرِفہرست ہے۔ دوسری جانب وفاقی ترقیاتی بجٹ کو 1.126 ٹریلین روپے تک محدود رکھا گیا ہے، جسکے بعد یہ اندرونی بحث چھڑ گئی ہے کہ صوبوں کو کس طرح کچھ ذمہ داریاں لینے اور اپنے وسائل وفاق کی ضروریات کے حق میں منتقل کرنے پر راضی کیا جائے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف اب تک ٹیکس وصولیوں کے اقدامات اور اخراجات میں کمی لانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں، تاکہ آنے والے بجٹ میں مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا جا سکے، جوکہ 2.9 ٹریلین روپے کے برابر بنتا ہے۔ آئی ایم ایف نے آنے والے مالیاتی بجٹ 27-2026 کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے ہدف کو کم کرنے سے اب تک صاف انکار کر دیا ہے، جو کہ اگلے مالی سال کے لئے 15264 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کے ہدف کو 13979 ارب روپے سے کم کر کے 13428 ارب روپے کیے جانے کے بعد، ایف بی آر کو یہ توقعات تھیں کہ اگلے مالی سال کے ہدف میں بھی کچھ ردوبدل کی جائے گی، لیکن آئی ایم ایف نے یہ بالکل واضح کر دیا ہے کہ ایف بی آر کو ہر صورت مالی سال 27-2026 میں 15264 ارب روپے ہی جمع کرنے ہوں گے۔ بجٹ بنانے والوں کے لیے چیلنج اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب جون 2026 کے اختتام تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی کا تخمینہ لگ بھگ 13000 ارب روپے لگایا گیا ہو۔ اس صورتحال میں، ایف بی آر کو اگلے مالی سال کے دوران مزید 2264 ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔ 2.12 2 فیصد کی برائے نام معاشی شرح نمو (جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد اور سی پی آئی پر مبنی افراط زر 8.2 فیصد شامل ہے) کے ساتھ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 14560 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، لیکن ایف بی آر کے لیے مطلوبہ مقررہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے باقی ماندہ 700 ارب روپے کا ریونیو پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بدھ 3 جون 2026 کو ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔