کیوں مجھے ملک سے نکالا گیا، کیوں جیلوں میں ڈالا گیا؟ قصور آپ کا بھی ہے، نواز شریف کا عوام سے شکوہ

03 جون ، 2026

گلگت (نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا،میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں، یہاں کہا جا رہا ہے کہ ہمیں این ایف سی سے حصہ ملنا چاہیے، ہم نے اس سلسلے میں 2017 میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کے بعد ہمیں نکال دیا گیا، اس وقت کمیٹی نے سفارشات مرتب کیں تھیں جنہیں ہم نے عملی جامہ پہنانا تھا، اس کا مطلب یہ کام اسوقت ہوگیا ہوتا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ان خیالات کا اظہارا نہوں نے یہاں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نوازشریف نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا، طلبہ کو اسکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20،20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو میں ہر دوسرے، تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور چاہوں گا کہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں ان کی تکمیل ہوتے ہوئے دیکھوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔